365 دن (حصہ اول)

by Other Authors

Page 102 of 208

365 دن (حصہ اول) — Page 102

درس حدیث 102 درس حدیث نمبر 2 ہمارے نبی صلی علی کرم فرماتے ہیں حضرت عمررؓ سے روایت ہے کہ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بالنیات کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔یعنی انسان کے ارادہ، اس کی سوچ، اس کی نیت پر ہی اس کے کام کا انحصار ہے۔انسان ظاہری شکل کے لحاظ سے اچھے سے اچھا کام کر رہا ہو مگر اس کی نیت خراب ہو اور وہ ظاہر اچھے کام کو کسی برے مقصد کے لئے کر رہا ہو نماز پڑھ رہا ہو مگر اس سے مقصد دکھاوا ہو صدقہ دے رہا ہو مگر اس سے شہرت مقصود ہو جہاد کر رہا ہو مگر اس سے مالی فائدہ اٹھانا چاہتا ہو تو یہ سب نیک کام غارت جائیں گے اور خدا کے حضور نیکی کے بجائے بدی سمجھے جائیں گے۔حضور صلی اللہ ﷺ نے فرمایا وَانَّمَا لِكُلِّ امْرِی مَا نَوی کہ ہر انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی یعنی جس قدر قوت اور سنجید گی اور توجہ کے ساتھ کوئی عمل کیا جائے گا اس کے مطابق اس کے نتائج دنیا اور آخرت میں ظاہر ہوں گے۔الشرسة اس بنیادی مضمون کو بیان کرنے کے بعد حضور صلی علیم نے ایک مثال سے اس مضمون کو خوب واضح فرمایا ہے ، حضور فرماتے ہیں فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيْبُهَا أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ بخاری کتاب بدء الوحى باب كيف كان بدء الوحي الى رسول الله الله (1) احباب جانتے ہیں کہ ہجرت کتنا مشکل کام ہے ایک انسان ہجرت کے وقت وہ جگہ چھوڑتا ہے جہاں وہ پیدا ہوا یا جہاں وہ سالہا سال رہا وہ اپنا گھر بار چھوڑتا ہے، اپنا ماحول چھوڑتا ہے، بسا اوقات وہ جگہ چھوڑتا ہے جہاں اس کی زبان بولی جاتی ہے بعض دفعہ ہجرت کرتے ہوئے وہ اپنے بیوی بچوں کو بھی چھوڑتا ہے۔ہجرت معمولی بات نہیں ہے اپنے پیارے وطن، اپنے ماحول، اپنا گھر ، اپنے دوست ، اپنے روز و شب جن سے وہ مانوس ہے اس کو یکدم چھوڑنے پڑتے ہیں ایسے مشکل کام کی مثال دیتے ہوئے حضور صلی الی مریم نے فرمایا کہ اگر ہجرت جیسا مشکل کام بھی خدا کی خاطر ، خدا کے دین کی خاطر نہ ہو بلکہ اپنی دنیوی اغراض کے لئے ہو کسی مالی فائدہ کے لئے ہو یا کسی عورت کے پیچھے اتنے بڑے مرحلہ سے انسان گزر رہا ہو تو ہجرت کی تکالیف اور