دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 54
54 ہے ۲۔۔تمام امت کو عوام اور نافہم ٹھہرانا۔۳۔۔بلکہ رسول اللہ سلیم کو معاذاللہ عوام نا فہم کہنا کیونکہ خاتم النبین کا معنی لا نبی بعدی حضور صل للہ السلام نے خود بیان فرمایا ہے۔۴۔معنی تفسیر وحدیث اور اجماع کے مخالفین کو اہل فہم بتانا۔معنی متواترہ قطعی میں کچھ فضیلت نہ ماننا۔۶۔۔اس معنی متواترہ و مقام مدح میں ذکر کرنے کے قابل نہ جاننا۔ے۔۔یہ کہنا کہ اس مقام کو مقام مدح قرار نہ دیجئے تو البتہ خاتمیت باعتبار تاخر زمانی صحیح ہوسکتی ہے۔۔۔اگر حضور سلائی تم کو آخری نبی مانا جائے اور اس وصف کو مقام مدح قرار دیا جائے تو معاذ اللہ خدا کی طرف زیادہ گوئی کا وہم ہونا ( زیادہ گوئی بے ہودہ بکواس کو کہتے ہیں) ہو۔۔اور حضور کی جانب نقصان قدر اور کم رتبہ ہونے کا احتمال پیدا کرنا ہے۔۱۰۔۔یہ کہنا کہ تآخر زمانی قدوقامت و شکل ورنگ وغیرہ ان اوصاف سے ہے جن کو نبوت اور فضائل میں دخل نہیں 11۔ختم زمانی کو کمالات سے شمار نہ کرنا اور یہ کہنا کہ اہل کمال کے کمالات ذکر کیا کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کے اس (آخری نبی ہونا) کے احوال بیان کیا کرتے ہیں ۱۲۔۔یہ کہنا کہ اگر حضور سلیم کو خاتم النبیین بمعنی آخری نبی مانا جائے تو کلام اللہ میں بے ربطی اور بے ارتباطی لازم آتی ہے۔اور جملہ { ما کان محمد ابا احد من رجالکم اور جملہ { ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین } میں کوئی تناسب نہیں رہتا ۱۳۔۔یہ کہنا کہ خاتم النبیین بمعنی آخر الانبیاء پر حضور سی پیہم کی خاتمیت کی بناء نہیں صلی ہے بلکہ بناء خاتمیت اور بات پر ہے۔۔۔۔۔۔