دیوبندی علماء سے ایک احمدی بچے کے تین سوال — Page 18
18 ان کی نعش سے شاندار مومنانہ سلوک پر جو حلفیہ رپورٹ روزنامہ زمیندار میں شائع ہوئی پیش ہے۔محمد مظہر علی خاں صاحب رامپوری اپنا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ”میرے مکان کے پیچھے جو شاہ آباد گیٹ میں واقع ہے محلہ کا قبرستان تھا۔صبح مجھ کو اطلاع ملی که قبرستان میں لا تعداد مخلوق جمع ہے اور قاسم علی کی لاش جو اس کے اعزاء رات کے وقت چپکے سے مسلمانوں کے اس قبرستان میں دفن کر گئے تھے لوگوں نے نکال باہر پھینکی ہے۔میں فوراً اس ہجوم میں جا داخل ہوا اور بخدا جو کچھ میں نے دیکھا وہ نا قابل بیان ہے۔لاش اوندھی پڑھی تھی منہ کعبہ سے پھر کر مشرق کی طرف ہو گیا تھا۔کفن استار پھینکنے کے باعث متوفی کے جسم کا ہر عضوعریاں تھا اور لوگ شور مچار ہے تھے کہ اس نجس لاش کو ہمارے قبرستان سے باہر پھینک دو۔جائے وقوعہ پر مرحوم کے پسماندگان میں سے کوئی بھی پرسان حال نہیں تھا۔لیفٹیننٹ کرنل محمد ضمیر کی خوشامدانہ التجا پر نواب صاحب نے فوج اور پولیس کو صورت حال پر قابو پانے کے لئے موقع پر بھیجا۔کوتوال شہر خان عبدالرحمن اور سپر نٹنڈنٹ پولیس خان بہاد را کرام حسین نے لوگوں کو ڈرا دھمکا کر لاش دوبارہ دفن کرانے پر مجبور کیا۔لیکن اس جابرانہ حکم کی خبر شہر کے ہر کونہ میں بجلی کی طرح پہنچ گئی۔اور غازیان اسلام مسلح ہو کر مذہب ودین کی حفاظت کے لئے جائے وقوعہ پر آگئے۔حکومت چونکہ ایک مقتدر آدمی کی ذاتی عزت کی حفاظت کے لئے عوام کا قتل و غارت گوارا نہیں کر سکتی تھی اس لئے پولیس نے لاش کو کفن میں لپیٹ کر خفیہ طور پر شہر سے باہر بھنگیوں کے قبرستان میں دفنا دیا۔چونکہ مسلمان بہت مشتعل اور مضطرب تھے اس لئے انہوں نے بھنگیوں کو اس بات کی اطلاع کر دی۔اور بھنگیوں نے اس متعفن لاش کا وہی حشر کیا جو پہلے (مسلمان بھائیوں کے ہاتھوں ) ہو چکا تھا۔پولیس نے یہاں بھی دست درازی کرنی چاہی لیکن بھنگیوں نے شہر بھر میں ہڑتال کر دینے کی دھمکی دی بالآخر سپر نٹنڈنٹ پولیس اور کوتوال شہر کی بروقت مداخلت سے لاش کو دریائے کوسی کے ویران میدان میں دفن کرنے کی ہدایات کی گئیں۔