بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 98
98۔پیش نظر را قم ان تصرف شدہ عبارات میں سے بطور نمونہ صرف دس عبارتیں پیش خدمت کرتا ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی سے اصل اقتباسات بھی درج کئے جاتے ہیں۔نوٹ:۔(اسلامی اصول کی فلاسفی" کے اصل اقتباسات کے آخر میں صفحات کے جو نمبر دئے گئے ہیں وہ خاکسار نے اس کے فروری ۱۹۶۲ء کے ایڈیشن کے مطابق دئے ہیں جو الشرکتہ الاسلامیہ لمیٹڈ ربوہ نے شائع کیا ہے۔خادم) تصرف شده عبارت: (1) اسی طرح روح کا اثر بھی جسم پر ہوتا ہے۔جس شخص کے دل کو کوئی رنج پہنچے وہ چشم پر آب ہو جاتا ہے جس کو کوئی خوشی ہو وہ خواہ مخواہ تبسم کرنے لگ جاتا ہے۔" (ص ۲۸) و"اسلامی اصول کی فلاسفی " (1) "ایسا ہی کبھی روح کا اثر بھی جسم پر جا پڑتا ہے۔جس شخص کو کوئی غم پہنچے آخر وہ چشم پر آب ہو جاتا ہے اور جس کو خوشی ہو آخر وه تجسم کرتا ہے۔" (ص ۲۶) تصرف شده عبارت: (۲) و طبعی حالتیں جب تک اخلاقی رنگ میں نہ آئیں اس وقت تک انسان قابل تعریف نہیں ہو سکتا کیونکہ طبعی حالتیں حیوانات بلکہ جمادات میں بھی پائی جاتی ہیں۔" (ص ۸۳) " " اسلامی اصول کی فلاسفی " (۲) طبعی حالتیں جب تک اخلاقی رنگ میں نہ آئیں کسی طرح انسان کو قابل تعریف نہیں بنائیں کیونکہ وہ دوسرے حیوانات بلکہ جمادات میں بھی پائی جاتی ہیں۔" (ص ۳۴) تصرف شده عبارت: (۳) اسلام کیا ہے۔اسلام وہ جلتی ہوئی آگ ہے جو ہماری سفلی زندگی کو بھسم کر کے اور ہمارے باطل مبعدوں کو جلا کر اور بچے اور پاک معبود کے آگے ہماری جان ہمارا مال اور ہماری آبرو کی قربانی پیش کرتی ہے۔" (ص ۱۰۳) "اسلامی اصول کی فلاسفی " (۳) اسلام کیا چیز ہے وہی جلتی ہوئی