بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 90 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 90

90 کو اللہ کی ذات و صفات پر ایمان لا کر اس سے موافقت تامہ ہو گئی اور ارادہ اس کا خدا تعالیٰ کے ارادہ کے ہمرنگ ہو گیا اور تمام لذت اس کی تابع فرمان الہی میں ٹھہر گئی اور جمیع اعمال صالح نہ مشقت کی راہ سے بلکہ تاذ ذ اور احتفاظ کی کشش سے صادر ہونے لگیں۔تو یہی وہ کیفیت ہے جس کی فلاح اور رستگاری سے موسوم کرنا چاہئے اور عالم آخرت میں جو کچھ نجات کے متعلق مشہور و محسوس ہو گا۔وہ در حقیقت اسی کیفیت راسخہ کے اظلال و آثار ہیں جو اس جہان میں جسمانی طور پر ظاہر ہو جائیں گے۔مطلب یہ ہے کہ بہشتی زندگی اسی جہان سے شروع ہو جاتی ہے اور جہنمی عذاب کی جڑھ بھی اسی جہان کی کورانہ زیست اور ناپاک زندگی ہے۔اب آیت ممدوحہ بالا پر ایک غائت نظر ڈالنے سے ہز ایک سلیم العقل سمجھ سکتا ہے کہ اسلام کی حقیقت تب کسی شخص میں مستحق ہو سکتی ہے کہ جب اس کا وجو د معہ اپنی تمام باطنی و ظاہری قومی کے محض خدا تعالٰی کے لئے اس کی راہ میں وقف ہو جاوے اور جو امانتیں اس کو خدا تعالی کی طرف سے ملی ہیں پھر اس معطی حقیقی کو واپس دی جاویں اور نہ صرف اعتقادی طور پر بلکہ عمل کے آئینہ میں بھی اپنے اسلام اور اس کی حقیقت کاملہ کی ساری شکل دکھلائی جاوے۔یعنی شخص مدعی اسلام یہ بات ثابت کر دیوے کہ اس کے ہاتھ پاؤں ، دل اور دماغ اور اس کی عقل اور اس کا فہم اور اس کا غضب اور رحم اور اس کا علم و حلم اور اس کی تمام روحانی اور جسمانی قوتیں اور اس کی عزت اور اس کا مال اور اس کا آرام اور سرور جو کچھ اس کے سر کے بالوں سے پاؤں کے ناخنوں تک باعتبار ظاہر و باطن کے ہے۔یہاں تک کہ اس کی نیات اور اس کے دل کے خطرات اور ان کے نفس کے جذبات سے خدا تعالٰی کے ایسے تابع ہو گئے ہیں کہ جس طرح ایک شخص کے اعضاء اس کے :