بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 89 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 89

89 ” واضح ہو کہ اسلام عربی لفظ ہے۔جس کے معنی ہماری اردو زبان میں بطور پیشگی ایک چیز کا مول دینا اور کسی کو اپنا کام سونپنا اور طالب صلح ہونا اور کسی امریا خصومت کو چھوڑ دینا اور اصطلاحی معنی وہ ہیں جن کا قرآن کریم کی اس آیت ذیل میں اشارہ ہے۔بلی من اسلم وجهه لله و هو محسن فله اجره عند ربه و لا خوف عليهم ولا هم يحزنون - یعنی مسلمان وہ ہے۔جو خدا تعالی کی راہ میں اپنے تمام وجود کو سونپ دے۔یعنی اپنے تمام وجود کو اللہ تعالٰی کے لئے اور اس کے ارادوں کی پیروی کے لئے اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے وقف کر دے اور پھر نیک کاموں پر خدا تعالٰی کے لئے قائم ہو جائے اور اپنے وجود کی تمام عملی طاقتیں اس کی راہ میں لگا دے۔مطلب یہ ہے کہ اعتقادی اور عملی طور پر محض خدا تعالی کا ہو جائے۔اعتقادی طور پر اس طرح کہ اپنے تمام وجود کو در حقیقت ایک ایسی چیز سمجھ لے۔جو خدا تعالٰی کی شناخت اور اس کی اطاعت اور اس کے عشق اور محبت اور اس کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے بنائی گئی ہے اور عملی طور پر اس طرح کہ خالصا حقیقی نیکیاں جو ہر ایک قوت کے متعلق اور ہر ایک خدا داد توفیق سے وابستہ ہیں بجا لاوے۔مگر ایسے ذوق و شوق و حضور سے کہ گویا وہ اپنی فرمانبرداری کے آئینہ میں اپنے معبود حقیقی کے چہرہ کو دیکھ رہا ہے۔پھر بقیہ ترجمہ آیت مذکورہ بالا کا یہ ہے کہ جس کی اعتقادی و عملی صفائی ایسی محبت ذاتی پر مبنی ہو۔اور ایسے طبعی جوش سے اعمال حسنہ اس سے صادر ہوں۔وہ وہی ہے جو عند اللہ مستحق اجر ہے اور ایسے لوگوں پر نہ کچھ خوف ہے اور نہ وہ کچھ غم رکھتے ہیں۔یعنی ایسے لوگوں کے لئے نجات نقد موجود ہے۔کیونکہ جب انسان