بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 78 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 78

78 اس طرف آ نہیں سکتا اور یہ خدا کے فضل پر موقوف ہے۔اگر کوئی کہے کہ اعمال سے شناخت ہو سکتا ہے کہ کونسا مذ ہب سچا ہے تو وہ لوگ جو راہزنی اور قزاقی کرتے ہیں ان سے پوچھا جاوے تو وہ اسے مکروہ خیال نہیں کرتے بلکہ ایک شکار سمجھتے ہیں۔اسی طرح اور لوگ جو فسق و فجور میں مبتلا ہیں وہ برا نہیں سمجھتے۔یہ کوئی بات نہیں ہے۔اصل یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور فیض کے برکات اور انوار ساتھ ہوں۔غرض اول یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالٰی کے متعلق غور کرے اور سمجھے۔سب سے اول اسی کا فرض ہے اور یہ سمجھ ملنا اس کے فضل پر موقوف ہے۔پھر دعا کرے اور نیک صحبت میں رہے اور یہ بھی خیال کرے کہ عمر کا کوئی اعتبار نہیں۔بعض لوگ اس انتظار میں رہتے ہیں کہ فلاں وقت اس نیکی کو کرلیں گے مگر وہ اس انتظار ہی میں رہتے ہیں اور موت آجاتی ہے۔اس لئے نیکی کے اختیار کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہئے۔" (انوار الاسلام جلد نمبر ا ا صفحہ ۱۱۔۱۲) -۲- مولانا عبد الحمید خاں ایڈیٹر رسالہ ”مولوی " دہلی "مولانا" عبد الحمید خال مدیر صفر ۱۳۶۵ (مطابق جنوری (۱۹۴۶ء میں شان مصطفی میں یا پر ایک پر معارف مضمون شائع کیا جو براہین احمدیہ جلد ۴ صفحہ ۱۷۷۔۱۸۰ سے معمولی تصرف کے ساتھ لفظاً لفظاً نقل ہوا تھا۔رسالہ ” مولوی" میں شائع شدہ مضمون درج ذیل کیا جاتا ہے۔عکس کتاب کے صفحات R60194 ملاحظہ کریں مسئول رسالہ ”مولوی" نے اس رسالہ کے شمارہ بین فیضان محمدی کی مثال اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا اس کے نور کی مثال مانند طاق کے ہے کہ اس میں چراغ ہو اور چراغ شیشے کی قندیل میں ہو۔قندیل ایسی ہو کہ گویا ایک تارا چمکتا ہے۔روشن کیا جاتا ہے وہ چراغ درخت مبارک زیتون سے۔وہ نہ مشرق کی طرف ہے اور ،