بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 77
77 اور پر ہستی کا کیا ثبوت ہے تو اس کا جواب وہ کیا دے سکتے ہیں؟ کیونکہ صانع کو مصنوعات سے شناخت کرتے ہیں جب کہ مصنوعات ہی کا وجود نہیں تو صانع کا وجود کہاں سے آیا۔جیو کرتی کو جو خود بخود تسلیم کرتے ہیں۔تو پھر ان کے جوڑنے جاڑنے کے لئے کیا حاجت ہو سکتی ہے۔اس طرح پر کوئی دلیل اللہ تعالی کی ہستی پر ان کے ہاتھ میں نہیں ہے اور جب تک اس کی ہستی پر کوئی دلیل نہیں کس طرح کوئی مان لے کہ وہ ہے ماسوائے اس کے ان لوگوں کا یہ بھی اصول نہیں کہ خدا رحم کرنے والا ہے۔ہر شخص کی اس ہستی پر توجہ ہوتی ہے۔جسے رحیم کریم اور فیاض تسلیم کرے لیکن انہوں نے یہ مانا ہے کہ بغیر کرموں کے پھل کے اور کچھ عطا ہی نہیں کر سکتا۔اگر کرموں پر ہی سارا مدار ہے تو اس خدا پر کیا بھروسہ اور کیا امید جس کا ذرہ بھر احسان نہیں ہے۔یہ تمام امور ہیں۔جب انسان ان کو بنظر غور دیکھتا ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ سوائے اسلام کے دوسروں سے بچی ہدایتیں نہیں ملتی ہیں، ماسوائے اس کے ایک اور بڑی بات قابل غور ہے کہ اسلام میں بہت بڑی بھاری خاصیت یہ ہے کہ انسان جس مطلب کے لئے بنایا گیا ہے وہ اسلام کے سوا حاصل نہیں ہو سکتا وہ کیا ہے ؟ یہ کہ خدا کی محبت بڑھے اور اس نا رفت ترقی کرے۔جس سے وہ ایک کامل شوق و ذوق کے ساتھ اس کی عبادت کرے لیکن یہ مطلب کبھی پورا نہیں ہو سکتا جب تک تعلیم اور ہدایت کامل نہ ہو اور پھر اس تعلیم اور ہدایت پر عمل کرنے کے جو نتائج اور ثمرات ہیں ان کا نمونہ موجود نہ ہو جس کو دیکھ کر معلوم ہو کہ خدا قادر خدا ہے۔یہ ساری باتیں اس وقت سمجھ میں آتی ہیں جب انسان ان کا پر غور مطالعہ کرتا ہے۔عظمند اور سعید کے دل میں تو اللہ تعالی خود ہی ایک واعظ پیدا کر دیتا ہے اور وہ اسلام اور دوسرے مذاہب میں اسی طرح امتیاز کر لیتا ہے۔جس طرح پر تاریکی اور نور میں ہے۔لیکن بعض شخص ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے دل پر ایک مہر ہوتی ہے۔وہ حقیقت تک پہنچنے کی سعی نہیں کرتے بلکہ بیہودہ اعتراض کرتے ہیں۔سعادت خدا تعالٰی کی عطا اور بخشش ہے۔کوئی شخص جب تک روح حق اور راستی سے مناسبت نہیں رکھتا '