بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 47 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 47

47 اس کے لئے غمگین نہ ہوا۔خوشتر از دوران عشق تو نباشد بیچ دور خوبتر از وصف و مدح تو نباشد هیچ کار اے عشق کے زمانہ سے اور کوئی زمانہ زیادہ اچھا نہیں اور کوئی کام تیری مدح و ثنا سے زیادہ بہتر نہیں۔تکیه بر اعمال خود بے عشق رویت ابلی است غافل از رویت نه بیند روئے نیکی زین ہار تیرے عشق کے سوا صرف اپنے اعمال پر بھروسہ کرنا بے وقوفی ہے۔جو تجھ سے غافل ہے وہ ہرگز نیکی کا منہ نہ دیکھے گا۔یا نبی اللہ توئی خورشید رہ ہائے ہائی بے تو نارد رو برا ہے عارف پرہیز گار اے نبی اللہ ! تو ہی ہدایت کے راستوں کا سورج ہے۔تیرے بغیر کوئی عارف پر ہیز گار ہدایت نہیں پا سکتا۔یا نبی اللہ لب تو چشمہ جاں پرور است یا نبی اللہ توئی در راه حق آموزگار اے نبی اللہ تیرے ہونٹ زندگی بخش چشمہ ہیں۔اے نبی اللہ تو ہی خدا کے راستہ کا رہنما ہے۔یا نبی اللہ فدائے ہر سر موئے تو ام وقف راه تو کنم گر جاں دہندم صد ہزار اے نبی اللہ میں تیرے بال بال پر فدا ہوں۔اگر مجھے ایک لاکھ جانیں بھی ملیں تو تیری راہ میں سب کو قربان کر دوں۔آئینہ کمالات اسلام صفحه ۲۳ تا ۲۹ مطبوعه ۱۸۹۳ء) صفحه آخری ست عیش دنیائے دوں دے چند ست آخرش کار با خداوند اس ذلیل دنیا کا عیش چند روزہ ہے بالاخر خدا تعالی سے ہی کام پڑتا ہے۔این سرائے زوال و موت و فناست ہر کو بشت اندرین برخاست۔یہ دنیا زوال موت اور فنا کی سرائے ہے جو بھی یہاں رہا ہو آخر رخصت ہوا۔