بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 46 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 46

46 از همه چیزے فزوں تر در همه نوع کمال آسمانها پیش اوج ہمت او ذره وار وہ ہر قسم کے کمالات میں ہر ایک سے بڑھ کر ہے اس کی بلندی ہمت کے آگے آسمان بھی ایک ذرہ کی طرح ہیں۔صدر بزم آسمان و حجتہ اللہ بر زمین ذات خالق را نشانے بس بزرگ و استوار وہ آسمانی مجلس کا میر مجلس اور زمین پر اللہ کی حجت ہے نیز ذات باری کا عظیم الشان مضبوط نشان ہے۔ہر رگ و تار و جودش خانه یار ازل هر دم و هر ذره اش پر از جمال دوستدار اس کے وجود کا ہر رگ و ریشہ خدا وند ازلی کا گھر ہے۔اس کا ہر سانس اور ہر ذرہ دوست کے جمال سے منور ہے۔حسن روئے او به از صد آفتاب و ماہتاب خاک کوئے او به از صد نافہ مشک بار اس کے چہرہ کا حسن سینکڑوں چاند اور سورج سے بہتر ہے۔اس کے کوچہ کی خاک تا تاری مشک کے سینکڑوں نافوں سے زیادہ خوشبودار ہے۔هست او از عقل و فکر و ہم مردم دور تر کے مجال تا آن بحر ناپیدا کنار وہ لوگوں کی عقل و سمجھ سے بالا تر ہے۔فکر کی کیا مجال کہ اس نا پیدا کنار سمندر کی حد تک پہنچ سکے۔روح او در گفتن قول بلی اول کسے آدم توحید و پیش از آدمش پیوند یار قول بلی کہنے میں اس کی روح سب سے اول ہے۔وہ توحید کا آدم ہے اور آدم سے بھی پہلے یار سے اس کا تعلق تھا۔جان خود را دن ہے خلق خدا در فطرتش جاں نثار خستہ جاناں بیدلان را غم گسار مخلوق الہی کے لئے جان دینا اس کی فطرت میں ہے۔وہ شکستہ دلوں کا جان نثار اور بیکسوں کا ہمدرد ہے۔اندراں و قتیکہ دنیا پر زشکر و کفر بود هیچ کس راخوں نہ شد دل جز دل آن شهریار ایسے وقت میں جب کہ دنیا کفرو شکر سے بھر گئی تھی سوائے اس بادشاہ کے اور کسی کا دل