بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 222 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 222

+ 222 بقیه ، عذاب التي تمہیں شیطان شیر کر تاریخ میں ہمیں ہمیشہ پتھر ماریں گی۔چند صحافیوں کو شہید کے اپنی تعریف میں۔مرضی ہے لکھے اور نگہ مورخ حقائق سے پردہ اٹھا کر تمہاری صحیح تصویر پیش کر دیں گے ہم عوام کی دولت کو لوٹ کو حاتم طاقی نہیں کہلا گئے، تم محاذ فروخت کر سکے اور آدھے راستے سے بھاگ کر اول حجامہ نہیں کہلا تو گے تم سیلیڈ کپڑے پر بال سیاہی کے داغ لگا کہ شہید کے خون کے قطروں سے خون آلود پرچم ہو۔؟ کیا تم ایسی جگہ کھڑے رہ سکتے ہو جیں ہاتھ میں لئے نائج نہیں کہلاؤ گے۔تم زیاد توں جگہ کوه آتش نشان سے پھر راستے ہیں۔کی دولت کو لوٹ کے اور اپنے دوستوں میں تقسیم یا بھی ہوتی ہے۔یا ایک ایسی جگہ ہے جہالے کر کے مردوالے کا گوشت کھا کہ اوقاف کے محافظ کو ک مہلک طاعون قبل انسان کو اسلام کے نہیں بنو گے، کیونکہ اوقاف کا مطلب وقت ہے کر رہی ہے پھرا کے نہیں خدا پر ایسا سکا یقین اور وقت کا یہ حال ہے کیوں اور پیروں کے لئے ہے۔تم تو مذاب الہی کو دیکھ رہے ہو ہے جیسا کہ سانپ یا بجلی یا طاعون ہو تو مکن نہیں کہ تم ایسے حاکموں یا لیڈروں کی تیرا م نے دیا نگاری اور ظلم و تشاد و کی سرحدوں کو تابع داری کرد۔جن کے کردار کی وجہ سے جبور کر لیا ہے۔آپ بھی اقتدایت سے درس شیرزاد وہ ان حقانیت کے مالک میں تم ان کے مقابل ہو جاؤ اور بارگاہ اپنی میں گڑ گڑا کر معافی پاداش پنیا کے باند مفید استفالی مدیریت ہارے جور و جوان بلاوں کو تمہارے مقابلے کرے۔اے میری قوم کے عزیز ہم خطائے یست و نابود کر دے اے عزیز و کم آستانے پر گیا۔ابجد فتق دیکھو اور ظلم و تشد ڑے دونوں کے لئے دنیا میں آنے مواد کے ان بتوں کو پاش پاش کرنے کے لئے وہ بھی بہت کچھ گزر چکے۔ایک انسان کو کیتی۔وایا ہے اور زبان سے اقرار کرو کہ لا الہلہ جو تم سے زبر دست ہو۔اگر تم سے نابر خوا ہو الا الله محمد رسول اللہ یہی پیغام تھا جو تو نہیں تباہ کر سکتی ہے۔پس تم سریع لو خدا کے رسول نے رہا اور میں کو تم بھول گئے۔اہ فا تعالی کی نام انگلی سے کیونکہ بچے سکتے ہو۔اور اس پیغام کو پھولنے کی سزا خود توان پاکسے گر تم خدا کی آنکھوں کے آگے تھی ٹھہر جاؤ تو نے بتادی ہے کہ ما كنا بعد چنین بیتے بعث میں کوئی بھی تنہا نہیں کر سکتا اور وہ خود رسولا۔تمہاری حفاظت کرے گا، ورنہ تمہاری جاری کا کوئی حافظ نہیں۔اور تم دشمنوں سے ڈر کوزہ ہم میں کیسی رسول مبعوث ہوئے کہ جس نے لا الہ کا پیغام دیا۔ہم نے اس کو اور آفات میں مبتلا ہو کر بے قراری سے نا اور پھر ان تمہارے کو کیا اور انکو مخاف اپنی ؟ خطاب جائے کسی کو اول تھا ہر کسی کو مجاہے۔زندگی بسر کرو گے اور تمہاری عمر کے آخری وبن پڑے غم و غصہ کے ساتھ گزریں گے نہیں ا نظم کسی کو فخر قوم بنا کر ان کے کیسے ہو گئے ہوش میں آؤ اور کتاب اپنی کے تانے اس لئے خدا نے میں مہلت دی اور انب ہوئے اصولوں کی مخالفت چھوڑ دو۔اس ا کا عذاب نازل ہونا شروع ہوا۔کیل ہیں اس کے بندوں پر زبان یا ہاتھ سے ظلم مت کرو۔کے یہ ستی نیست ونابود ہو جائے ، النا اور آسمانی قہر اور غضب سے ڈرتے رہو۔کہ توں کو پاش پاش کر کے خدا کے پیغام یه ای نجات کی راہ ہے۔دنیا میں کتنے بادشاہ مل کرو۔آئے کتنے ہو نیل آئے۔ایک رہتے تک دیا ہے ہم نے مندرجہ بالا سطور میں تہراہی سے سے حکومت کرتے رہے۔اگر بالا اور اپنے ظالم و میانہ ذکر زیادہ زید ایک ایسے وعظ جے کے حال میں پھنس کر تباہ ہو گئے اپنی یار دیا ہے جو نہ صرف قوم کے لئے ہے بلکہ زندگی میں بندوں سے سجدے بھی کرائے مگر ہارے اپنے لئے بھی ہے مگر یہ خوف ہم ہے تاریخ اور آنے والی نسلوں نے ان پر لعنت کرتا ان کے بافت زوجہ علاقے کے صافت کی اور جس طرح جمع کے موقعہ پر ایک جگہ سب فالنخور جائزہ لینے کے بعد حاوی ہوا۔ہم لوگ پتھر مارتے ہیں کہ اس جگہ شیطان نے اپنے آپ کو بھیجا گناہ گار والے کی فہرست میں گمراہ کرنے کی سب یا سوئی تھی۔اسی طرح نامل سمجھتے ہیں لیکن خود اپنے اور اپنی قوم نے ظالم اور ریا کار جا کہ آنے والی میں اپنی مولی کا منظر نا میں ہو کہ ہم نے یہ اداریہ کار کار نما ساختگی