بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 22 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 22

22 کر بیاں سب حاجتیں حاجت روا کے سامنے ایک نہ اک دن پیش ہو گا تو قضا کے سامنے چل نہیں سکتی کسی کی کچھ فنا کے سامنے چھوڑنی ہو گی تجھے دنیائے فانی ایک دن ار کوئی مجبور ہے خدا کے سامنے وو مستقل رہنا ہے لازم اے بشر تجھ کو سدا رنج و غم غم سوز فکر وبلا کے سامنے حاجتیں پوری کریں گے کیا تری عاجز بشر کر بیاں حاجتیں حاجت روا کے سامنے چاہئے تجھ کو مٹانا قلب سے نقش دوئی سرجھکا لے مالک ارض و سما کے سامنے چاہئیے نفرت بدی سے اور نیکی سے پیار اک نہ اک دن پیش ہو گا تو خدا کے سامنے راستی کے سامنے کب جھوٹ پھلتا ہے ندیم قدر کیا پتھر کی لعل بے بہا کے سامنے " اخبار ” تنظیم اہلحدیث" کے نگران ان دنوں حضرت العلام" حافظ محمد عبد اللہ رو پڑی تھے اور مدیر حافظ عبدالرحمن امرتسری۔مولانا ندیم کی یہ نظم تمام حلقوں میں پسند کی گئی اور اسے گہری دلچسپی سے پڑھا گیا۔اسی اثناء میں رسالہ "الفرقان" جولائی ۱۹۶۱ء نے یہ انکشاف کر کے ادبی دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ یہ پوری نظم معمولی تغیر کے ساتھ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے پر معارف کلام سے لی گئی ہے اور مقطع میں بھلا کی بجائے ندیم کا لفظ بطور تخلص شامل کر دیا گیا ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی اصل نظم ملاحظہ کیجئے اور شاعر اہلحدیث" مولانا ندیم صاحب کے اس علمی و ادبی