بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 211
211 ۴۲۱ كتاب الاسلام اور مخلوق کے قرب و جوار سے دور تر اور بلند تر مقام ہے اسی کو عرش کے نام سے موسوم کیا گیا ہے جس کی واضع تر تشریح ہے کہ جب تمام خلوق پردہ عدم میں تو تھی اور سول خداکے کچھ نہ تھا وداعا درار الورا مقام ہیں جس کا نام اصطلاح قرآنی میں عرش ہے اپنی تجلیات ظاہر کر رہا تھا پھر اس نے تو زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے پیدا کیا تو پھر اس نے اپنے تئیں مخفی کر لیا اور یہ چاہا کہ وہ ان مصنوعات کے ذریعہ پہچانا جائے مختصر یہ کہ عرش کوئی مخلوق چیز نہیں صرف تنزہ و تجرد کے رار الورا مرتبہ کا نام ہے۔نیز قرآن شریف میں جہاں جہاں لفظ عرش استعمال ہوا ہے اس مراد خدا کی عظمت جبروت تنزیہ و تقدیس اور بلندی و برتری ہے اس بنا پر اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جب خدا تعالیٰ نے دنیا کو پیدا کردیا اور اس کی تمام صفات ظہور میں آگئیں توگو یا اللہ تعالیٰ اپنے تخت ربوبیت پر پوری شان کیا تھ جلوہ گر ہو گیا۔یعنی کوئی صفت صفات لازمہ الوہیت ایسی نہ رہی جس کا نظور ہو چکا ہو پس گویا خدا تعالیٰ کا تخت پر بٹھنا صفات خالقیت ربوبیت رحمانیت اور رحمیت کو دنیا پر نافذ کرنا اور ظہور میں لانا ہے۔اسی کا نام عرش ہے۔اب ہی یہ بات کہ اس کے تخت کو چار فرشتے اٹھائے ہوئے ہیں اور قیامت میں آٹھا ئیں گے اسکا جواب یہ ہے کہ فرشتوں سے مرد خدا کی چار صفتیں ربوبیت زمانیت رحیمیت اور مالک یوم الجبرا ہوتاہے سو یہ چاروں صفات استعار کے رنگ میں چار فرشتے قرار دئے گئے ہیں یا یہ کہ ان چار صفتوں پر چار فرشتے موکل برنج دنیا پران صفا کو ظاہر کرتےہیں اور قیام کے روز چونکہ بے پردہ ہوں لہذا ان کو آٹھ سے تبرکیا گیا۔سوال۔جب خدا تعالے کی صفات ازلی وایدی ہیں تو کیا زمین و آسمان کی پیدایش سے پہلے سکی صفات کا ظور نہ تھا اگر تھاتو پھر ثم استوی علی العرش کے کوئی معنے نہیں رہتے اور اگر نہ تھا تو اس کی صفات ازلی و ابدی نہیں رہتی لہذا حقیقت حال بتلائیے۔جواب۔جب دنیا وغیرہ نہ تھی تب بھی عرش تھا تجلی اول کی نسبت قرآن میں ہے کان عرشه على الماء یعنی اس کا عرش پانی پر تھا۔مگر یہ ایک محلول الکتہ حقیقت ہے کہ پانی سے کیا مراد ہے بجلی دو گم کے تعلق ثم استوی علی العرش کے الفاظ ہیں مطلب یہ کہ زمین و آسمان کے پیدا کرنے سے پہلے وہ تخلیق عالم پر قادر تا اگر بالفعل موجد اور سکون نہ تھا۔اگرچہ اس کی صفات از لی میں مگر جب مخلوق ہو تو خالق کو بچانے اور محتاج ہو تو رازق کو شناخت کرے جب اللہ تعالیٰ نے دنیا پیدا کر دی اور اس کی صفات کا ظہور ہو گیا توگو یاوہ تخت ربوبیت پر مٹھ گیا ا ر لوازم الوہیت پوری شان کے ساتھ ظاہر ہو گئے پس تم استوی علی العرش سے اس تجلی کی طرف اشارہ کیا ہے جو زمین وآسمان کی