بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 210
" 210 إن ربكم الله الذي خَلَقَ السَّمواتِ تمہارا پر در دگار وہ خدا ہے جس نے زمین وَالاَرضِ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُم و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا اور پھر اس نے استَوى عَلَى الْعَرْشِ عرش پر قرار پکڑا۔اس کی تفسیریں حضرت امام فخر الدین رازی فرماتے ہیں۔ان نقطع بكونه تعالى متعاليا عن یہ تو قطعی طور پر ہے کہ اللہ تعالیٰ مکان اور المكان والجهة ولا نخوض في جہت تعالی ہے مگریم آیت کی تفصیل و تاویل تاويل الاية على التفصيل بل نہیں کرتے بلکہ اس کا علم اور حقیقت خدا نفوض علمها الا الله امام رازی کا یہی مذہب ہے اور آپ نے اسی پر اعتماد کیا ہے لیکن چونکہ اس مسئلہ میں سوائے تاویل کے چارہ نہں اور یہ مرجائزہے کہ عوام اس کی تمیم کےلئے کوئی عام ہم تاویل کی جائے اس سب سے اس آیت کی تفسیریں دو مذہب میں ایک تو وہی جواد پر مذکور ہوا اور دوسرا پر چھوڑتے ہیں۔مذہب امام صاحب نے یہ بتلایا ہے۔قول ثانی اس میں یہ ہے کہ آیت کی تفصیل میں غور وخوض کرنا چاہئے اس میں بھی دو قول ہیں ایک ہیں کہ عرش عربی زبان میں بادشاہی اور ملک تو وہ جو نقال علیہ الرحمہ کا قول ہے۔آپ فر و کہتے ہیں۔مثلا کہتے ہیں یہ اس وقت کہتے ہیں کہ جب اس کی بادشاہ له بادشاه کاملک فلل پذیر مولر میں خلل آجائے اور کبھی عرش سے مراد اس کا امر بادشاہی اور حکم ہوتا ہے اور بھی تخت نشینی۔(تفسیر کبیر ج ۲ صفحه ۳۳۴) " لفظ "عرش کی استعمال کی مختلف صورتیں بلا کر امام صاحب لکھتے ہیں۔انما المراد منها تعريف المقصو ان الفاظ سے مراد کنایہ کے پیرایہ یں قصور على سبيل الكتابة فكذا ههنا کی تعریف ہے اسی طرح یہاں استوی علی العرش کو ذکر کیا گیا ہے جس مراد نفاذ يذكر الاستواء على العرش والمراد نفاذ القدرة وجريان المشية قدرت اور ارادہ کا جاری ہوتا ہے۔غرض آیت مذکورہ میں استوی علی العرش کا لفظ بطور کنایہ کے استعمال کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے زمین و آسمان پیداکرکے اوراپنی نشیبی صفات کا اور فرماکر تنزیہی صفا اختیار کرنے کے لئے مقام بلند اختیار کرلیا یعنی تنزیہی صفات بھی ثابت کر دیں اس میں جو دراء اور مقام