بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 208 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 208

208 ۴ کمزوریوں کو دور کر دیا ہے۔اور اس روح کے کچھ سکنے کے ساتھ ہیں وہ کس میدادنی مرتبہ ہر تھا کمال کو پہنچ جاتا ہے۔اور ایک روحانی آب و تاب پیدا ہو جاتی ہے۔اور گندی زندگی بالکل دور ہو جاتی ہے۔اور مومن اپنے اندر محمدیس کر لیتا ہے۔کہ ایک نور روح اس کے اندر داخل ہو گئی ہے جو پہلے نہیں لکھتی۔اس روح کے ملنے سے مومن کو ایک عجیب سکنیت اور اطمینان پیدا ہو جاتا ہے۔اور محبت ذاتیہ الہیہ ایک فوارہ کی طرح جوش مارتی ہے۔اور عبودیت کے پودا کی آبپاشی کرتی ہے اور وہ آگ جو پہلے ایک معمولی گرمی کی حد تک تھی۔اس درجہ پر وہ تمام و کمال افروختہ ہو جاتی ہے۔کہ انسانی وجود کے تمام خر و خاشاک کو جلا کہ الوہیت کا قبضہ اس پر کر دیتی ہے۔اوردہ آگ تمام اعضاء پیمہ احاطہ کر لیتی ہے۔تب اس لوہے کی مانند جو نہایت درجہ آگ میں تپایا جائے یہاں تک کہ سرخ ہو جائے اور ساگ کے رنگ پر ہو جائے۔اس طرح مومن سے الوہیت کے آثار اور ا نعال ظاہر ہوتے ہیں جیسا کہ لوہا بھی اس درجہ پر آگ کے آثار اور انچال ظاہر کر تا ہے۔مگر یہ نہیں کہ وہ مومن خدا ہو گیا ہے۔بلکہ محبت الہیہ کا کچھ ایسا ہی خاصہ ہے جو اپنے رنگ میں ظاہر وجود کو لے آتی ہے۔ا در باطن میں معبودیت اور اس کا ضعف موجود ہوتا ہے یہی وہ مقام ہے جس کے بارے میں رسول کریم نے حدیث قدس میں فرمایا مجھے بخارة و منصب امانت مصنفہ محمد سمعیل دیلوی اہل حدیث منح لا يزال يتقرب عبدي بالنواقل حتى أحبية فاذا أدبية لكنت سمعه الذى ليسمح به وبصره الذي يبصر به : يده التي يبطش بھانا جلد التي يشى بها ولات ساكني لاعطينه ولئن استعاذ ني لاعيد تند۔ترجمہ میرا بنارہ تو ائل کے ذریعہ قرب حاصل کرنے میں کی۔نہیں کرتا۔یہاں تک کہ میں اسے درست بنا لیتا ہوں۔جب وہ میرا دوست بن جاتا ہے۔تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں۔جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھیں بن جاتا ہوتی۔جن سے وہ دیکھتا ہے۔اور اس کے پاتے بن جاتا ہوں جن سے وہ چھوتا ہے۔اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔اور جب وہ مجھ سے سوال کرتا ہے۔میں پورا کرتا ہوں۔اور جب وہ مجھ سے پناہ