بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 207 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 207

: 207 زه انبیاء کے تمام حرکات وسکنات رضائے الہی کا آئینہ اور حقیقت اسلام کا نمونہ ہوتے ہیں سارے انبیاء علیهم السلام فنا فی اللہ ہوتے ہیں۔ان کے تمام حرکات وسکنات خدا تعالے کی رضا مندی کیا آئینہ اور حقیقت اسلام کا نمونہ ہوتے ہیں۔اور وہ اسی لئے دنیا میں بھیجے جاتے ہیں کہ ان کی تعلیم سے حقیقت اسلام دنیا پر اس طرح واضح ہو جائے کہ جس سے ہر شخص اس کا متقی ہو جائے تاکہ جس سے اس کا وجود مور اپنے تمام باطنی ظاہری انوئی کے محض خدا تعالے کے لئے ہی تف ہو جائے۔اور جو امانتیں اس کو خدا تعالے کی طرف سے علی ہیں پھر کسی معطلی حقیقی کو واپس کر دی جا دیں۔اور نہ صرف اعتقادی نور پر بلکہ عمل کے آئینہ میں بھی اپنے اسلام اور اس کی حقیقت کا ملہ کی ساری شکل دکھلائی جائے۔یعنی ملت کی اسلام یہ بات ثابت کم دیوے گی اس کے ہاتھ پاؤں مال و دماغ اس کی عقل اس کا تم اس کا نصب اس کا رحم اس کام اس کا علم اس کی تمام ہو جاتی اور سہیمائی تو میں اس کی عزت اس کا مال اس کا آرام اس کا سرور جو کچھ اس کے سر کے بالوں سے لے کر پیروں کے خنوں تک باعتبار ظاہر و باطن کے ہے۔یہاں تک کہ اس کے بیات اس کے دل کے خطرات اس کے نفس کے جذبات سب خد اتعالیٰ کے ایسے تابع ہو گئے ہیں۔کہ جیسے ایک شخص کے اعضاء اس شخص کے تابع ہوتے ہیں بعض یہ ثابت ہو جائے کہ نقدم صدق اس درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ جو کچھ اس کا ہے۔وہ اس کا نہیں بلکہ خدا تعالے کا ہو گیا ہے کہ تمام اعتقاد اندی اپنی خدمت میں اپنے لگ گئے ہیں۔گویا وہ جوار " الحق نہیں ہے ا می نام چیز کیا ہے۔خدا کے لئے مفت : تک دھنائے خوایش پیے مرضی خدا جو مر گئے اپنی کے نفیسوں میں ہے حیات ہے اس راہ میں زندگی نہیں ملتی بر مانتا۔اس مرفیہ پر خدا نہ لے اپنی ذاتی محبت کا ایک اور رشتہ شکار جی کو نہ سر سے لفظوں میں روم کہتے ہیں مومن کے دل پر نازل کرتا ہے۔اور اس سے تمام نام کیوں اور ان پیشوں اور