بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 160 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 160

160 چاہئے۔یہی کیفیت و حالت ہے جب قلب و روح پر پوری طرح حاوی اور متولی ہو جائے تب ایک عاشق و مالک حضرت بابا جی کے تبرکات فریدیہ دربارہ دعا اور اس کی تاثیرات کا عرفان حاصل کر سکتا ہے۔(صفحه ۱۶۲) آستانه فریدیہ کے وابستگان یہ معلوم کر کے یقینا ورطہ حیرت میں ڈوب جائیں گے کہ ان چند فقرات کے سوا جن میں براہ راست حضرت بابا جی کے روحانی کمالات کا تذکرہ کیا گیا ہے باقی پوری عبارت حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کی ایک معرکہ آراء تقریر کی حرف بحرف نقل ہے۔یہ تقریر پہلی بار اخبار الحکم ۳۱ مارچ ۱۹۰۵ء کے صفحہ ۵ پر شائع ہوئی تھی اور ادارۃ المصنفین ربوہ نے اس کا یہ قیمتی اقتباس دسمبر ۱۹۷۰ء میں " تفسیر صغیر " کے صفحہ ۴۸٬۴۷ پر بھی ریکارڈ کر دیا ہے اور آسمان روحانیت پر چاند ستاروں کی طرح جگمگا رہا ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ گرانقدر تالیف یقیناً کمال درجہ محنت و کاوش سے مرتب ہوئی ہے جس میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے شاندار علم کلام کی برتری اور عظمت کا اسرار طریق پر اعتراف کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں اس کے مطالعہ سے یہ معرفت بھی ملتی ہے کہ دور حاضر میں طریق محمدی کا خضر کون ہے ؟ کون عالم لاہوت ناسوت اور جبروت کی رفعتوں میں محو پرواز ہے اور کس ، کے زندگی بخش کلمات، ارباب طریقت و حقیقت کے لئے حقیقی طور مرکز انوار ہیں؟ آؤ لو گو کہ میں نور خدا پاؤ گے لو تمہیں طور تلی کا بتایا ہم نے