بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 159 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 159

159 تند سیل ہے پر آخر کو کشتی بن جاتی ہے۔ہر ایک بگڑی ہوئی بات اس سے بن جاتی ہے اور ہر ایک زہر اس سے آخر تریاق ہو جاتا ہے۔(صفحه ۱۶۲۱۶۱) معزز قارئین ! مذکورہ عبارت میں جلی الفاظ بھی بجنسہ حضرت بانی سلسلہ احمد علیہ السلام کے لیکچر سیالکوٹ (۱۹۰۴ء) کے صفحہ ۲۶ سے نقل ہوئے ہیں۔آخر میں مولف کتاب اپنے " پر مشقت مراقبہ" کے نتیجہ میں ایک داعی حق اور روحانی رہبر کا روپ دھار لیتے ہیں اور مسند ارشاد پر رونق افروز ہو کر ناصحانہ شان میں رقم فرماتے ہیں:۔"حضرت بابا جی رحمتہ اللہ علیہ نے جو عملی زندگی دنیا میں اپنائی اور جس کا مخلوق خدا سے تعارف کروایا اس کی رحمتوں اور برکتوں کا کوئی انتہاء نہیں۔آپ نے اپنے عقیدت مندوں کو خوب بتایا اور سمجھایا کہ خدا تعالی بڑا کریم ہے ، اس کی کریمی کا بڑا گہرا سمندر ہے جو کبھی ختم نہیں ہو سکتا اور جس کو تلاش کرنے والا کبھی محروم نہیں رہا۔اس لئے چاہئے کہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعائیں مانگو اور اس کے فضل کو طلب کرو کیونکہ دعا مانگنا اللہ تعالیٰ کی قدرت کے عین مطابق ہے مثلاً عام طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ جب بچہ رو تاد ھوتا ہے ، اضطراب ظاہر کرتا ہے تو ماں کس قدر بے قرار ہو کر اس کو دودھ دیتی ہے۔الوہیت اور عبودیت میں اسی قسم کا شخص سمجھ نہیں سکتا۔جب تعلق ہے جس کو ہر انسان اللہ تعالی کے دروازے پر گر پڑتا ہے اور نہایت عاجزی اور خشوع و خضوع کے ساتھ اس کے حضور اپنے حالات کو پیش کرتا ہے اور اس سے اپنی حاجات کو مانگتا ہے تو الوہیت کا کرم جوش میں آتا ہے اور ایسے شخص پر رحم کیا جاتا ہے ، اللہ تعالی کے فضل و کرم کا دودھ بھی ایک گر یہ چاہتا ہے اس لئے اس کے حضور رونے والی آنکھ پیش کرنی۔