بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 107 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 107

107 " مضمون ” آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۸۱٬۸۰ کے حاشیہ سے لیا گیا ہے اور ویسے " تو مولف محترم نے بہ عنوان اللہ تعالٰی خالق خیر بھی ہے اور خالق شر بھی۔" صفحہ ۴۸۶ سے ص ۴۸۹ تک تمام کا تمام آئینہ کمالات اسلام" سے لیا ہے۔کہیں حاشیہ اور اصل کتاب کا مفہوم ملا کر کچھ لفظوں کے ردو بدل سے کام لیا ہے۔اور اس کتاب کے معارف سے اپنی کتاب کو مزین بنایا ہے۔اب چوتھا نمونہ ملاحظہ ہو۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مایہ ناز تصنیف "کشتی نوح" سے نقل کیا گیا ہے۔"الغرض پنج گانہ نمازیں کیا ہیں۔انسان کے مختلف حالات کا فوٹو ہیں۔یعنی انسان کے حالات میں پانچ تغیر رونما ہوتے ہیں اور فطرت انسانی کے لئے ان کا واقعہ ہونا ضرو ر ہے۔۔۔۔وجہ تعین نماز ظہر۔تم کو جس وقت اطلاع ملتی ہے کہ تم پر کوئی مصیبت یا بلا آنے والی ہے۔مثلاً عدالت سے وارنٹ جاری ہونے والا۔۔۔۔۔انسان کی یہ مصیبت کی حالت زوال کے مشابہ ہے۔کیونکہ اس سے خوشی کے زوال پر استدلال کیا جاتا ہے۔۔۔۔اس لئے اس وقت ظہر کی نماز مقرر کی گئی جس کا وقت زوال آفتاب سے شروع ہوتا ہے۔" (کتاب الاسلام " صفحه ۶۸۶) وجہ تعین نماز عصر :۔دوسرا تغیر تمہاری حالت میں اس وقت ہوتا ہے۔جب مصیبت قریب الوقوع ہوتی ہے اور تم بذریعہ گرفتاری وارنٹ گرفتار ہو کر حاکم کے سامنے پیش کر دیئے جاتے ہو۔اس وقت خوف کی وجہ سے تمہارا خون خشک اور تسلی اطمینان کا نور تمہاری سے رخصت ہونے لگتا ہے۔اس حالت کو اس وقت سے تشبیہہ دی جاسکتی ہے جب کہ آفتاب کا نور کم ہوتا ہے۔اس پر نظر جم سکتی ہے اور آفتاب نظر آنے لگتا ہے اور یہ خیال ہوتا ہے کہ آفتاب اب قریب غروب