بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 104
104 نظیر ہیں۔مگر یہ امر اس کتاب میں ہمیں بار بار کھٹکتا ہے جو مولف محترم نے حضور علیہ السلام کی کتب کا حوالہ کسی جگہ بھی دینا مناسب نہیں سمجھا۔حالانکہ اس کتاب میں دوسری کتابوں سے بھی متولف محترم نے امداد لی ہے۔مگر ہر جگہ مصنف اور کتاب کا حوالہ بھی دیا ہے۔مثلاً حضرت امام غزالی کی کتب کا اور دیگر بزرگان دین کی کتب کے حوالے دیئے ہیں۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا کہیں حوالہ نہیں دیا۔تا ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بندش الفاظ خیالات کی بلند پروازی، معرفت حقیقی کی تڑپ خود بخود منہ سے بول اٹھتی ہے کہ یہ مضمون سوائے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے کسی دوسرے کے قلم سے نکل ہی نہیں سکتا۔مولف محترم نے جہاں جہاں فلسفه اسلام بیان کیا ہے۔سب مضمون حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی کتب سے لیا ہے۔اب میں اس کتاب سے چند حوالے پیش کرتا ہوں۔جن کو مصنف مذکور نے ا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے خزانہ سے لے کر پیش کیا ہے۔کتاب الاسلام کے صفحہ ۴۹۴ پر تحریر فرماتے ہیں:۔” ان تمام دلائل مذکورہ بالا سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اسلامی اصول کی رو سے جسم کی رفاقت روح کے ساتھ دائمی ہے۔گو موت کے بعد یہ فانی جسم روح سے الگ ہو جاتا ہے۔مگر عالم برزخ میں مستعار طور پر ایک روح کو کسی قدر اپنے اعمال کا مزا چکھنے کے لئے جسم ملتا ہے۔وہ جسم اس جسم کی قسم سے نہیں ہو تا۔بلکہ ایک نور سے یا ایک تاریکی سے جیسا کہ اعمال کی صورت ہو ، جسم تیار ہوتا ہے۔گویا اس عالم میں انسان کی عملی حالتیں جسم کا کام دیتی ہیں۔ایسا ہی خدا تعالی کے کلام میں بار بار آیا ہے۔اور بعض جسم نورانی اور بعض ظلماتی قرار دئے ہیں۔جو اعمال کی روشنی یا اعمال کی ظلمت سے تیار ہوتے ہیں۔اگر چہ راز ایک دقیق راز ہے۔مگر غیر معقول نہیں ہے۔انسان کامل اپنی زندگی میں ایک نورانی وجود اس کثیف جسم کے علاوہ پاسکتا ہے اور عالم