بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 103
103 ۱۷۶ صفحات ہے۔سرورق پر تحریر ہے کہ ”مذہبی تعلیم کا وہ نادر الوجود ذخیرہ جس کی نظیر آج تک کسی زبان میں موجود نہیں۔" چونکہ میرے پاس اس کا دوسرا ایڈیشن ہے جو ماہ جولائی ۱۹۳۳ء عبد الحمید خان کے حمید یہ پریس دہلی میں چھپوا کر شائع کیا گیا ہے۔اس لئے پہلی مرتبہ کا سن طبع معلوم نہیں ہو سکا۔لیکن کتاب کے اندر مولف موصوف نے ۲۵ء کا حوالہ کتاب مذکور کے صفحہ ۱۰۷ پر نقل فرمایا ہے۔جس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ کتاب پہلی مرتبہ ۱۹۲۵ء یا اس کے بعد طبع ہوئی "اخبار نور قادیان " کے اگر ہے۔کتاب کے مولف محترم جماعت احمدیہ کے مخالف معلوم ہوتے ہیں۔مثلاً اس کتاب میں آپ تحریر فرماتے ہیں۔۔۔۔پس ثابت ہوا کہ قادیانیوں کا عقیدہ سرا سر باطل اور گمراہی ہے۔خدا مسلمانوں کو اس عقیدہ کے اثر سے محفوظ رکھے۔" "کتاب الاسلام " ص (۵۰۴) اظهار حقیقت:۔لیکن باوجود جماعت احمدیہ کی مخالفت کے مولف محترم کی نظر انتخاب اپنی کتاب کو نادر الوجود اور بینظیر بنانے کے لئے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی اس معرکہ آلاراء تصنیف پر پڑی۔جس کے متعلق اللہ تعالٰی نے مضمون پڑھے جانے سے پہلے حضور کو اطلاع دی تھی کہ " یہ مضمون ہے جو سب پر غالب آئے گا۔" یعنی اسلامی اصول کی فلاسفی۔یہ تصنیف مولف محترم نے اپنی کتاب میں قریب قریب سب ہی نقل فرما دی۔اس کے علاوہ آئینہ کمالات اسلام، چشمہ معرفت کشتی نوح سے بھی جا بجا مولف نے مضامین لئے ہیں۔جہاں تک حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی تصنیفات سے افادہ کرنے کا تعلق ہے ہمیں نہ صرف اس پر کوئی اعتراض نہیں۔بلکہ خوشی ہے کیونکہ اس سے حضور کے علم کلام کی فضلیت ثابت ہوتی ہے۔اور یہ امر ظاہر ہوتا ہے کہ حضور نے اللہ تعالی کی مدد اور تائید سے قرآن مجید اور اسلام کے جن علوم کا انکشاف فرمایا۔وہ ہر لحاظ سے بے