زندہ درخت — Page 96
زنده درخت عبدالرحیم کہاں ہیں ؟ بچوں نے بتایا کہ وہ تو ہر سیاں روانہ ہو گئے۔موسم کی سختی دیکھ کر اُن کی والدہ صاحبہ نے یہ حکم دے کر انہیں بھگا دیا کہ اُن کے پیچھے جاؤ اور ہر قیمت پر اُن کو واپس لے آؤ اگر عذر کریں تو کہہ دینا کہ ہماری امی غصے ہوں گی۔ہمیں جب یہ پیغام ملا تو دہشت زدہ ہم تھے ہی زیادہ اصرار نہ کیا اور اُن کے ساتھ واپس آگئے۔سبحان اللہ دنیا میں کس قدر رحم دل لوگ ہیں ہمیں دیکھ کر جیسے اُن کی جان میں جان آئی۔موسم خراب تھا اُن کے بچوں کو بھی خطرہ تھا مگر ہماری جان بچانے کے لئے اپنے بچوں کو ایک طرح سے قربان کر دیا اور پھر جس طرح وہ خوش ہوئے ہمیں دیکھ کر وہ بھی حد بیان سے باہر ہے۔اُدھر گھر والوں کا حال سنیں جب ہمیں دیر ہوگئی تو وہ ایک طرح نا اُمید ہو گئے طوفانی رات دو چھوٹے بچے کہاں محفوظ رہے ہوں گے۔امی جان تو رات کو ہی والد صاحب کو تلاش کے لئے بھیجنے پر بضد تھیں مگر انہوں نے ہوش کا فیصلہ کیا کہ اللہ پر توکل رکھو نیک اُمید رکھو ایسے میں گھر سے نکلا تو دو وہ گئے تیسرا میں اللہ رحم کرے صبح ہوتے ہی تلاش میں نکلوں گا۔ساری طوفانی رات ہمارے والدین نے آنکھوں میں کائی اور ہماری زندگی کی دعا مانگتے رہے۔ان کا جو حال ہوا ہوگا سب اولا دوالے تصور کر سکتے ہیں۔خدا خدا کر کے صبح ہوئی والد صاحب تلاش میں نکلے۔ہر طرف پانی ہی پانی جہاں کہیں کچھ جھاڑ جھنکار اکٹھا نظر آتا لپکتے کہ شاید یہ عبدالغفور ہو گا عبدالرحیم ہوگا۔یونہی چلتے چلتے تلونڈی پہنچ گئے۔آپ پر نظر پڑتے ہی اُس مہربان خاتون نے آواز دی میاں جی ! بچے زندہ ہیں۔محفوظ ہیں میں نے انہیں روک لیا تھا۔حمد وشکر میں ڈوبی جو طمانیت والد صاحب نے محسوس کی ہوگی اور بچوں کو لپٹا کر اُس محترم خاتون کو دعائیں دی ہوں گی اُس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔اس احسان کے نتیجے میں تشکر کا جذبہ ساری عمر ہمارے گھرانے میں موجود رہا میرے والد اور والدہ صاحبہ نے نیک سلوک رکھا پھر میری اہلیہ محترمہ نے محبت کا تعلق رکھا مکرم محمد شریف صاحب کی اہلیہ کی زندگی کی آخری گھڑیاں میری اہلیہ صاحبہ کے ہاتھ میں گزریں۔رتن باغ میں قیام کے دوران 96