زندہ درخت — Page 350
زنده درخت جے کوئی میرے اس ختم پر کردا ہے ناراضی تاں اوہ مینوں اپنے والا سچ سنائے قاضی پاک محمد اصحاباں دی کھانا کھاون جاندے ختم شتم نہ کچھ وی پڑھدے کر بسم اللہ کھاندے اصحاباں تے پاک اماماں ہوئے فوت پیارے ختم ستم رسم سقم توں سارے رہے کنارے تیجے ساتے چالئے بابت ثابت سند نہ کوئی نبی اصحاباں جو نہ کیتی بدعت ہوئی سوئی ٹھگ یتیماں مول نہ کھاؤ بلکہ فیض پوچاؤ ایسا ہے حکم خداوند والا اسپر عمل کماؤ حلوے کی رکابی اور ملاں کی کامیابی 16 صفحات پر مشتمل ایک طویل مزاحیہ نظم ہے۔ہلکے پھلکے انداز میں ساس بہو کی لڑائی پیش کی ہے جو پنجابی ثقافت کی ایک بھر پور تصویر ہے۔دلہن بیاہ کر گھر لاتے ہیں تو کیسا اشتیاق ہوتا ہے۔محلے کی خواتین کس نظر سے دیکھتی ہیں۔جہیز ، بری دونوں طرف کا زیور سب کی تفصیل ہے پھر دلہن کا اپنی مائکے سے آئی ہوئی چیزوں پر اتراہٹ اور سسرالی تحفے تحائف کو تخفیف کی نظر سے دیکھنا اور ہر چیز میں سوسو عیب دکھانا بیان کیا ہے۔ابتدائی اشعار حمدیہ ہیں اور اسی سے موضوع کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے۔سب تعریف خداوند تائیں جید یاں صفتاں عالی جس احسن تقویم بنائی شان انساناں والی خالق نے مخلوق بنائی خلقت رنگی برنگی کاریگر نے قدرت کتی سب چنگی توں چنگی 350