زندہ درخت — Page 351
زنده درخت مرد عورت دا کاری گر نے جوڑا خوب بنایا اک جوڑی دا حال حوالہ چاہاں لکھ دکھلایا ایک منظر کشی اسی طرح کی ہے کہ دلہن کے عیب نظر آگئے تو محلے کی خواتین اس طرح اُٹھیں گویا جس مقصد کے لئے آئی تھیں وہ حاصل ہو گیا ہے۔سُننے والیاں نے اے گلاں جد سمجھے سُن لیاں راضی ہوئیاں اُٹھ کھلوئیاں ہس ہس گھر نوں گئیاں گھروں گھروں جااے گل آکھن واہ واہ نیک نصیبی بھلے مانس خوش قسمت نہیں ہتھ لگی اے بی بی اُس کے بعد بد مزاج بہو کی نافرمانیوں ، گستاخیوں اور بدزبانیوں کا تذکرہ ہے یہاں تک کہ مار کٹائی تک نوبت آ گئی۔ضد کا عالم یہ تھا کہ ہر بات الٹ کرتی۔دریا پار کرنے کے لئے کشتی پر بیٹھنے کے مشورے کو رد کر کے تیرنا چاہا اور تیرتے ہوئے بھی ضد یہ کہ ہاتھ نہیں ނ پکڑنا۔پانی کے رُخ سے اُلٹ تیرنا ہے۔بالکل ڈوبتی ہوئی کو مشورہ دیا گیا کہ سر پانی۔باہر رکھنا تو اُس نے فور اسر اندر کر کے ٹانگیں باہر نکال دیں۔پھر نہ خواجہ خضر مدد کو آئے نہ اُس کے من کا رہنما شیطان کسی کام آیا انکار کی ضد راہ راست سے دور لے گئی۔دس صفحات پر پھیلی ہوئی جھوٹی ضد انا اور انکار کی عادت کے نقصانات کے دلچسپ بیان سے قارئین اور سامعین کی توجہ پر مکمل گرفت کے بعد گریز کیا۔اور صداقت مسیح موعود کا محبوب موضوع شروع کیا۔اپنے مالک نال جنیاں نے کیتیاں ضداں اڑیاں اوڑک انت اُنہاندے سر پر ہو یاں بڑیاں بڑیاں لڑا کا کپتی بہو کی تمثیل میں نہ ماننے کی عادت ہر نبی کے کفار کے ضدی رویے کا بیان ہے اور اچھی باتیں صبر سے سمجھائے جانے کا طریق انبیاء علیھم السلام کا ہے۔نظم میں قدرے تفصیل سے اس دستور کو بیان فرما کے نتیجہ پر آتے ہیں۔351