زندہ درخت — Page 345
زنده درخت تھے۔1940ء کے لگ بھگ کا واقعہ ہو گا۔صبح کا وقت تھا میری اہلیہ آمنہ بیگم صاحبہ اور بچے حکیم صاحب کے ارد گرد بیٹھے تھے۔سردی کی وجہ سے پتھر کے کوئلوں کی انگیٹھی دہکائی ہوئی تھی۔حکیم صاحب کو حقہ پینے کی عادت تھی۔ناپسند کرنے کے باوجود عادت چھوڑی نہ جا رہی تھی۔میں ثواب کی خاطر آپ کا حقہ گرم کرتارہتا اگر چہ ہمیں شروع سے ہی ہمارے ابا جان ، میاں فضل محمد صاحب نے حقہ ، سگریٹ سے نفرت دلائی ہوئی تھی۔اس حد تک کہ پینا تو در کنار دیکھنا بھی اچھانہ لگتا تھا۔اُس دن بھی جب حکیم صاحب نے چلم میں کو نکلے ڈالنے کو کہا تو میں نے اپنا مطالبہ دہرایا کہ کیوں اپنی صحت خراب کرتے ہیں۔حقہ نا پسندیدہ ہے۔مثیل مسیح حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے حقہ پینا منع کیا ہے۔آپ اُن کی بات مان کر حقہ چھوڑ دیں۔انہوں نے کہا۔چل توں کم کر اپنے کام سے کام رکھو میں حضرت صاحب کے فرمان کا مطلب زیادہ سمجھتا ہوں۔میں نے کہا اچھا میاں جی ! اگر حضور آپ سے براہ راست کہہ دیں کہ حقہ چھوڑ دیں پھر تو آپ چھوڑ دیں گے نا! آپ نے کہا وہ مجھے کیسے منع کریں گے انہیں علم ہے کہ مجھے عادت ہے۔میں نے کہا میں اُن سے تحریر درخواست کروں گا کہ وہ میری درخواست پر لکھ دیں کہ حکیم صاحب حقہ چھوڑ دیں تو بہتر ہے۔اگر ایسا ہو تو پھر تو آپ کو چھوڑنا پڑے گا۔آپ نے کہا کہ بیٹے روٹی بعد میں کھانا پہلے یہ کام کر لو۔میں بھی خاص موڈ میں تھا۔رقعہ لکھا اور اپنی اہلیہ سے کہا۔کھانا پکانا بعد میں کرنا پہلے یہ رقعہ لے جاؤ کیا خبر آج یہ معاملہ طے ہو جائے۔میں نے اُس میں لکھا :- حضور آپ کے دم سے مردے زندہ ہورہے ہیں اگر آپ ایک لفظ تحریر کر دیں تو کام بن سکتا ہے حکیم صاحب کو حقہ کی عادت ہے اگر آپ ممانعت 66 میں کچھ تحریر فرما دیں تو یہ حقہ چھوڑ دیں گے۔“ مجھے اُمید واثق تھی کہ رقعہ کا جواب میرے حق میں ہوگا۔تھوڑی دیر میں جواب آ گیا حضور نے لکھا تھا:- 345