زندہ درخت — Page 344
زنده درخت تحریر خط یا درخواست وغیرہ لکھوانا ہوتی تو مجھ سے ہی لکھواتے کہتے بیٹے تو ذرا اچھا مضمون بنالیتا ہے۔کھانے کی عادات نہایت سادہ تھیں۔جومل جاتا کھا لیتے۔ایک دفعہ کہنے لگے یار روز گوشت روز گوشت کبھی سبزی دال بھی ہونی چاہئے۔مجھے گوشت مرغوب تھا اس لئے زیادہ تر گوشت ہی پکتا تھا۔آپ کی بات رکھنے کے لئے میں نے گھر میں گوشت لانا چھوڑ دیا۔خود باہر ہوٹل وغیرہ سے کھا لیتا۔ایک دن خود ہی کہا۔بچے کیا گوشت نہ لانے کی قسم کھالی ہے؟ پھر گوشت آنا شروع ہوا۔مگر ہم اس بات کا خیال رکھتے کہ جو آپ کو پسند ہو وہی پکایا جائے۔آپ کی سادگی کا یہ عالم تھا کہ باور چیخانے میں پیڑھی پر بیٹھ کر کھانا کھا لیتے۔روٹی پر ساگ ،سالن ، دال وغیرہ ڈال لیتے کہ اس طرح روٹی نرم ہو جاتی ہے۔کھانا کھانے اور پانی پینے میں اسلامی آداب کا خاص خیال رکھتے۔پیدل چلنے کا شوق پورا کرنے کے لئے دس ہمیں دن کے وقفے سے گھر سے تبلیغ کے لئے نکل کھڑے ہوتے۔کئی کئی دن باہر لگا آتے۔تلاوت قرآن کا بہت التزام کرتے روزانہ ایک پارہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے سوائے مرض الموت کے یہی طریق رہا۔ہم کو تاریخ معلوم کرنی ہوتی تو قرآن پاک میں آپ کی نشانی دیکھ لیتے۔اُن کا طریق تھا کہ اپنی جمع پونجی بھی قرآن پاک ہی میں رکھتے۔آپ نے بتایا حضرت خلیفہ اسیح اول کے زمانے میں جب آپ مدرس تھے ایک دفعہ صاحبزادہ محمود، شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب اور مفتی فضل الرحمن صاحب شکار کے لئے آئے۔صاحبزادہ صاحب نے مجھے امامت کے لئے ارشاد فرمایا اور فر ما یا چار رکعت کا ثواب کیوں چھوڑوں یعنی مقامی امام ہوگا تو صر کے بجائے پوری نماز ہوگی۔حکیم صاحب کا حقہ اور حضرت خلیفہ امسیح الثانی کا فیصلہ : ایک روز ہم اپنے گھر میں بیٹھے تھے۔اُس وقت حکیم صاحب میرے پاس ہی مقیم 344