زندہ درخت

by Other Authors

Page 322 of 368

زندہ درخت — Page 322

زنده درخت رہا۔جب ہمارے ملک میں دوسری دفعہ طاعون پڑا تو اُس وقت میں نے بیعت کی۔مجھے یاد آیا کہ میں نے پہلی دفعہ ملاقات کی تو میرے ہاتھ میں ایک کتاب تھی جس کا نام نظام الاسلام تھا۔اس کے حاشیے پر تو قیر الحق درج تھی۔اس کتاب میں تین سو ساٹھ علمائے حنفی کی مُہریں لگی تھیں۔حضرت اقدس علیہ السلام وہ کتاب لے کر پڑھتے رہے۔میں تو سو گیا وہ پتہ نہیں کس وقت سوئے۔صبح نماز کے لئے مجھے جگایا۔نماز پڑھ کر میں چلا گیا۔(۱) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دفعہ فرمایا کہ اللہ بخش تو دیکھتا ہے کہ اس وقت قادیان گمنامی کے ایک گوشے میں ہے۔غیر ممالک کے لوگ اس کے نام سے بالکل بے خبر ہیں اور یہ بھی کوئی نہیں جانتا کہ غام احمد بھی کسی شخص کا نام ہے مگر تو اپنی زندگی میں دیکھے گا کہ قادیان میں کہاں کہاں سے لوگ آتے ہیں اور قادیان کی شہرت کیسے چار دانگ عالم میں پھیلتی ہے۔اس وقت میری عمر 80 سال ہے اور میں خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ تمام واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں کوئی ملک نہیں جہاں حضرت اقدس کی تبلیغ نہیں پہنچتی اور دور دراز کے ممالک سے لوگ برکت حاصل کرنے کے لئے یہاں آتے ہیں۔(2) یہ بات میں نے کئی آدمیوں سے بار ہاسنی کہ حضرت صاحب نے فرمایا قادیان دریائے بیاس تک پھیلے گا میں تو اپنے ذوق کے مطابق اب تک اس کے یہی معنی سمجھتا ہوں کہ قادیان' بے آس، تک پہنچے گی یعنی وہاں تک پہنچے گی جہاں تک پہنچنے کی کسی کو آس و امید ہی نہیں ہوگی۔(3) حضرت صاحب کے والد صاحب ایک ماہر طبیب تھے۔ایک دفعہ بیاس کے پار سے ایک نوجوان قادر بخش نام، ان کا نام سن کر قادیان آیا۔مگر اسے معلوم ہوا کہ وہ تو فوت ہو گئے ہیں۔اس پر حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔حضرت صاحب نے رہنے کو مکان دیا۔دوا اور غذا اسب اپنے پاس سے مہیا فرماتے رہے۔خدا کے فضل سے وہ جلد صحت یاب ہو گیا اور بعد میں کئی دن یہاں رہا۔ایک روز اس نے بانگ کہی چونکہ اُس کی آواز بہت اعلی تھی اس لئے حضرت صاحب نے حکم دیا کہ میاں قادر بخش پانچ وقت تم ہی 322