زندہ درخت — Page 264
زنده درخت کرتے تھے کہ ہوائی سفر کرواؤں گا اُن کی خواہش چھوٹی بیٹی نے پوری کر دی۔بعد میں باجی باری نے بتایا کہ امی کہ رہی تھیں جی چاہتا ہے اُڑ کر ربوہ پہنچ جاؤں سو تم نے اُڑ کر ربوہ پہنچنے کے سامان کر دیئے۔شادی کے بعد افریقہ میں سیرالیون اور نائیجریا رہنے کا موقع ملا۔1978ء میں مجھے نائیجریا سے ربوہ واپس آنا پڑا ان دنوں مجھے بلڈ پریشر کی تکلیف تھی۔ڈاکٹر صاحب کا خیال تھا کہ اب مجھے ایک گولی روزانہ کھانی پڑے گی۔ابا جان بغرض علاج ربوہ آئے ہوئے تھے میں ابا جان سے ملنے گئی ہوئی تھی۔بڑے بھائی عبدالمجید نیاز بھی وہاں موجود تھے۔بھائی جان نے میری شکایت ابا جان کو لگائی کہ دیکھیں ابا جان ہماری چھوٹی بہن ہے اور بیماری کیسی لگائی ہے؟ ابا جان نے پوچھا کیا ہے اسے؟ ابا جان کا چہرہ دیوار کی طرف تھا ہم دوسری طرف چار پائی پر بیٹھے ہوئے تھے۔بھائی جان نے جواب دیا بلڈ پریشر، ابا جان نے آہستہ سے کروٹ بدلی۔میری طرف دیکھا اور کہا تو کل کی کمی ہے۔پھر توقف کے بعد کہا یہ بیماری ہوتی ہی ایسے لوگوں میں ہے جن میں تو کل کی کمی ہو۔یہ چاہتی ہے کہ ساس سسر میری مرضی کے تابع ہوں۔نند بھاوج میری مرضی کی بات کریں بچے میرے اشاروں پر چلیں۔یہ بات غلط ہے سب کچھ اس کی مرضی اور پسند سے کیسے ہو سکتا ہے؟ سب کو اللہ تعالیٰ نے علیحدہ علیحدہ دماغ دیئے ہیں۔ہر ایک کی سوچ اور دماغ مختلف ہوتا ہے۔پھر تھوڑ اسانس لے کر میری طرف دیکھ کر کہا۔تم اپنے آپ کو بدلو، اور عہد کرو کہ کوئی کچھ بھی کرے مجھے سب کی خدمت کر کے اللہ تعالیٰ سے جزالینی ہے۔میری آنکھیں جھک گئیں اور شرمندہ ہی ہو کر ابا جان سے وعدہ کیا کہ میں انشاء اللہ سب کی خدمت کر کے اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کی کوشش کروں گی۔یہ فقرہ کہنے کو تو میں نے کہہ دیا۔لیکن جب اس پر عمل کرنے کا وقت آیا تو بہت مشکل لگا۔روزانہ رات کو سونے سے قبل میں اپنا محاسبہ کرتی۔دل و دماغ کو صاف کرتی اور اگلے روز کے لئے لائحہ عمل تیار کر کے اپنا قبلہ درست کر کے سوتی اور سارا دن کوشش کرتی کہ مجھے 264