زندہ درخت — Page 251
زنده درخت ساتھ ساتھ بہت سی دوسری خوبیوں کے بھی مالک تھے۔طبیعت نہایت درجہ سادگی پسند اور نرم خُو واقع ہوئی تھی۔ہر فن مولا ہوتے ہوئے بھی محنت و مشقت سے کبھی عار محسوس نہ کی حضرت اقدس مسیح پاک سے متعلق بہت سی ایمان افروز روایات جو انہوں نے اپنے والد محترم اور سلسلہ کے دوسرے بزرگان کی زبانی سن رکھی تھیں اپنے حلقہ احباب میں بڑے دلچسپ اور روح پرورانداز میں بیان کرتے بیشتر مذہبی اور متنازع مسائل پر عبور رکھنے کے باعث طبیعت میں تبلیغی جذ بہ وشوق بھی کارفرما تھا جس کی بنا پر بارہا تحر یک وقف عارضی کے تحت دور دراز علاقوں کے تبلیغی سفر بھی اختیار کئے اور زمانہ درویشی میں عرصہ قریباً آٹھ نو ماہ جہاں تک لوکل انجمن احمد یہ میں بطور سیکریٹری تبلیغ و تربیت خدمات بھی بجالاتے رہے۔قبریبا9-8 ماہ قبل بیماری کا شدید حملہ ہونے پر بغرض علاج اسپتال امرتسر میں داخل کیا گیا ماں تشخیص سے معلوم ہوا کہ ملٹی پل میلوما ہو چکا ہے۔کافی عرصہ امرتسر میں علاج ہوتا رہا۔ازاں بعد ان کے عزیزان انہیں بغرض علاج و خدمت گزاری اپنے ہمراہ پاکستان لے گئے جہاں ہر ممکن علاج اور خبر گیری کی جاتی رہی مگر افسوس کہ کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی بالآخر تقدیر الہی غالب آئی اور مرحوم بھائی جی ہمیشہ کے لئے اس دار فانی کو چھوڑ کر دار قرار میں جا مکین ہوئے۔مرحوم نے اپنے پیچھے نہایت ہو نہار تعلیم یافتہ اور سلسلہ کے ساتھ اخلاص ومحبت رکھنے والی جو اولاد بطور یادگار چھوڑی ہے ان میں مرحوم کے تین فرزند مکرم عبدالمجید صاحب، مکرم مولوی عبد الباسط صاحب مربی سلسلہ اور مکرم عبدالسلام صاحب نیز مرحوم کی پانچ بیٹیاں، محترمہ امة اللطیف صاحبہ ایڈیٹر ماہنامہ مصباح، محترمہ امۃ الرشید صاحبہ محترمہ امتہ الحمید صاحبه، محترمہ امۃ الباری صاحبہ اور محترمہ امتہ الشکور صاحبہ شامل ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے جذ بہ اخلاص اور قربانیوں کو شرف قبولیت سے نوازتے ہوئے انہیں اپنے قرب خاص میں بلند درجات سے نوازے اور تمام پسماندگان کو اس گہرے صدمے کو پورے صبر وتحمل کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔(ایڈیٹر بدر ) 251