زندہ درخت

by Other Authors

Page 23 of 368

زندہ درخت — Page 23

زنده درخت ہر گز آپ کو نہیں جانے دوں گا۔چنانچہ انہوں نے میرا گھوڑ اکسی رشتہ دار کے ہاں باندھ دیا اور مجھے ساتھ لے کر بیت کے اندر چلے گئے۔جب میں اندر گیا تو اس وقت میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود بیٹھے ہیں اور مولوی عبد الکریم صاحب تقریر فرمارہے تھے۔میں وہاں بیٹھا رہا اور تقریر سنتا رہا۔چنانچہ میں دو دن قادیان شریف میں رہا۔اور میں نے چندہ بھی دیا۔ایک دوست جو چندہ لے رہا تھا اُس نے میرا نام پوچھا مگر میں نے اس کو نام نہ بتلا یا اور چندہ دے دیا۔آخری دن جب بیعت شروع ہوئی تو محمد اکبر صاحب نے میرا ہاتھ پکڑ کر اوپر رکھ دیا۔میں نے دل میں کہا کہ جب تک میرا ارادہ نہ ہو بیعت کیا ہوگی؟ خیر میں نے ہاتھ نہ اُٹھایا اور دعا میں شامل ہو گیا۔جب میں واپس گھر گیا تو میرے دل میں یہی خیال گزرتا کہ قادیان میں سوائے قرآن شریف کے اور نیک دینی باتوں کے اور کچھ نہیں سنا۔لوگ صرف یاد الہی میں مشغول ہیں۔اس خیال کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے نمازوں میں اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعا کرنی شروع کی کہ اے میرے پیدا کرنے والے میرے محسن میں تیرا بندہ ہوں گنہگار ہوں، بے علم ہوں، میں نہیں جانتا کہ تیری رضا کے مطابق کون چلتا ہے۔اس وقت تو مجھے اس رستہ پر چلا کہ جس پر تو راضی ہوتا کہ قیامت کے دن مجھے شرمندگی نہ اُٹھانی پڑے۔اے میرے مولیٰ جب تو مجھ سے قیامت کو پوچھے گا تو اس وقت میں یہی عرض کروں گا کہ میرے پیارے اللہ میں بے علم تھا اور میں نے اپنا آپ تیرے حضور رکھ دیا تھا۔اور بار بارعرض کرتا تھا کہ اے میرے پیارے مجھے صحیح رستہ بتا اور اس پر مجھے چلنے کی توفیق بخش۔کئی دن کے بعد میں بٹالہ میں سودا بزازی خریدنے کے لئے گیا تو میں پہلے اسی دوست محمد اکبر کے پاس چلا گیا۔وہاں بھی یہی باتیں شروع ہو گئیں اور انہوں نے ذکر کیا کہ کل سیٹھ صاحب مدر اس سے تشریف لائے ہیں اور قادیان شریف گئے ہیں۔چنانچہ ایسی باتوں سے میرے دل میں جوش پیدا ہوا اور میں نے اس دوست کو یعنی محمد اکبر کو کہا کہ اُس 23