زندہ درخت — Page 24
زنده درخت روز آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر بیعت والوں میں شامل ہونے کے لئے حضرت صاحب کے ہاتھ پر رکھ دیا تھا مگر میرا دل نہیں چاہتا تھا۔مگر اب مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جوش پیدا ہوا ہے اور اب میں اسی جگہ سے قادیان شریف جاتا ہوں اور سچے دل سے تو بہ کر کے بیعت میں داخل ہوتا ہوں۔اس پر میرے اس دوست نے نہایت خوشی کا اظہار کیا اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر میرے ہمراہ قادیان پہنچے۔جب میں بیعت کر کے اپنے گھر پہنچا تو میری بیوی نے پوچھا کہ آپ سودا لینے گئے تھے اور آپ خالی ہاتھ آ رہے ہیں۔اس پر مجھے خیال گزرا کہ حقیقت حال ظاہر کرنے سے یہ ناراض نہ ہو جا ئیں مگر میں نے ان کو سچ سچ کہہ دیا کہ میں قادیان شریف جا کر حضرت مسیح موعود کی بیعت کر آیا ہوں۔اس پر انہوں نے کچھ نہ کہا۔اور کچھ عرصہ کے بعد انہوں نے اپنا ایک خواب سنایا کہ میں خواب میں حج کو جا رہی ہوں اور بہت سے لوگ حج کو جارہے ہیں اور وہ ہمارے گاؤں سے مشرق کی طرف ہے جدھر لوگ حج کو جا رہے ہیں۔جب میں حج کی جگہ پہنچی ہوں تو میں اکیلی ہوں۔وہاں سیڑھیاں چڑھ کر ایک مکان کی چھت پر جا بیٹھی ہوں۔وہاں دیکھتی ہوں کہ ایک چھوٹی عمر کا بچہ وہاں بیٹھا ہے اور اس کے اردگرد بہت سی مٹھائی پڑی ہے۔مجھے اس بچہ کو دیکھ کر اپنا وہ بچہ یاد آ گیا جو کچھ عرصہ ہوا فوت ہو چکا ہے۔اس پر اس بچہ نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ فکر نہ کرو اللہ تعالیٰ تمہیں بچہ دے گا وہ احیا ہو گا، نیک ہو گا۔میرے خیال میں وہ ( جگہ ) قادیان شریف ہے مجھے قادیان لے چلو۔چنانچہ میں ان کو قادیان لے آیا اور بیعت میں داخل کروادیا الحمد للہ۔بیعت کرنے کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں آپ سے کوئی چیز نہیں مانگتی صرف یہ چاہتی ہوں کہ آپ مجھے قادیان جانے سے نہ روکیں۔ہمارے گاؤں کا قاضی فوت ہو گیا ، اس کے دو چھوٹے چھوٹے بچے اور ایک لڑکی رہ گئی۔میں ان کے لئے قضاء کا کام کرتارہا۔اور جو آمدنی گاؤں سے ملانوں کو ہوتی تھی ان کو دلاتا رہا۔میں نے اور میری بیوی نے ان کی ایک لڑکی کو قرآن شریف اور کچھ دینی کتابیں بھی پڑھائی تھیں۔جب وہ لڑکے بڑے ہوئے تو ایک دفعہ عید کے دن جب ہم عید کے 24