زندہ درخت — Page 144
زنده درخت ہے۔آپ نے فرما یا پوچھ کر آئیں کہ روٹی کھائیں گے والد صاحب نے پوچھا۔اور آکر بتایا کہ وہ کہتا ہے روٹی نہیں کھاؤں گا ؟ آپ نے فرمایا کہ پوچھیں پھر کیا کھائے گا ؟ اُس نے کہا کہ دودھ بکرم (Rusk) کھانا ہے۔بدرالدین صاحب کے والد صاحب نے آ کر کہا حضور دودھ بکرم کھانے کو کہتا ہے۔آپ کے ہاتھ پر تولیہ تھا اُسے ہٹایا تو ہاتھ پر ایک چینی کا پیالہ تھا جس میں دودھ اور بکرم پڑے تھے۔آپ نے فرمایا: ”لے جائیں اور اُس کو کھانے کو دیں“ بدرالدین صاحب نے فرمایا: کہ والد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ وہ مائدہ تھا جو خدا نے اُس بیمار حواری کے لئے بھجوایا تھا وہ قادر ہے۔سبحان اللہ۔محت بدرالدین صاحب کی روایت : محترمہ اہلیہ بدرالدین صاحب بھی رفیقہ تھیں۔ہم نے انہیں بھی دعوت دی وہ سن رسیدہ نہیں۔چادر اوڑھتی تھیں۔اُن کی باتیں بھی بہت دلنشین تھیں فرمایا جب میری شادی ہوئی حضرت ام ناصر کی گود میں میاں نصیر احمد تھے جو حضرت اقدس مسیح موعود کے سب سے پہلے پوتے تھے۔حضرت اُمم ناصر کسی تکلیف کی وجہ سے بچے کو دودھ نہ پلا سکتی تھیں۔بچے کو دودھ پلانے کے لئے جس بھی خاتون سے کہا گیا بچے نے منہ نہ لگایا۔میرے خسر مرحوم نے مجھ سے پوچھا کہ تم دودھ پلا سکو گی ؟ میری گود میں بچی تھی میں نہا دھو کر بخوشی تیار ہو گئی۔حضرت اقدس مسیح موعود کے پوتے کو دودھ پلایا۔بچے نے پیٹ بھر کے دودھ پیا اور سو گیا۔بچہ گہری نیند کافی دیر تک سویا رہا تو سب کو فکر ہوا کہ دودھ میں کوئی ناموافق بات نہ ہو ڈاکٹر صاحب کو دکھایا گیا۔ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ کوئی فکر کی بات نہیں پیٹ بھرا تو خوب نیند آئی ہے بچہ کچھ دیر کے بعد اُٹھا اور کھیلنے لگا۔اس ضمن میں حضرت مسیح موعود کی قبولیت دعا کا ایک واقعہ بھی لکھ دوں حضرت اقدس مسیح 144