زندہ درخت — Page 134
زنده درخت سفر کیا۔ہر جگہ اور راستے میں ان گنت دلچسپ واقعات پیش آئے۔بچہ مرگ میں مجھے ایک مخلص احمدی دوست ملے جو سری نگر میں آشنا ہوئے تھے۔میں نے عدالت خان صاحب کا پوچھا آپ نے بتایا کہ عدالت خان روس جانے کے لئے میرے پاس ٹھہرے تھے اتفاق سے بیمار ہو گئے ع مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوائی بخار ٹائیفائڈ اور پھر نمونیہ ہو گیا جب دیکھ بھال اور علاج میری طاقت سے باہر ہو گیا تو میں نے انہیں مقدر دن جماعت میں لے جانے کی تیاری کی وہاں بھی افاقہ نہ ہوا۔ایک دن حالت یاس میں اُس مخلص نوجوان نے کہا کہ ایک طریقہ ہو سکتا ہے جس سے میں ایک سال اور زندہ رہ سکتا ہوں اور وہ یہ کہ کسی غیر احمدی کو میرے پاس لائیں وہ مجھ سے حضرت مسیح موعود کی صداقت پر مباہلہ کرے پھر خدا کی قسم میں ایک سال اور زندہ رہ سکتا ہوں۔مگر ایسے غیر احمدی کا کیسے انتظام ہوتا ؟ آخر ان کا وقتِ شہادت آ گیا۔غریب الوطنی میں موت کو گلے لگا یا اور یہیں اُن کو دفن کر دیا گیا۔وہاں پر میں ایک دن حجام سے بال کٹوا رہا تھا تو اُس نے ایک بات سنائی وہ غیر احمدی تھا کہنے لگا عدالت خان کا کیا کہنا میں گواہ ہوں کہ وہ شہید ہوا دیکھو وہ سامنے قبرستان ہے اور وہ میرا گھر ہے۔میں ایک دفعہ رات کو جاگا تو دیکھا قبرستان میں روشنی ہے میں نے خیال کیا کہ کوئی میت آئی ہو گی۔دوسرے دن بھی قبرستان میں خاص طرح کی روشنی دیکھی پھر بھی میں نے یہی خیال کیا کہ تدفین ہو رہی ہوگی۔تیسری رات بھی روشنی دیکھی تو میں ہمت کر کے اُٹھا قبرستان آیا تو دیکھا یہ روشنی عدالت خان کی قبر سے پھوٹ رہی تھی شعائیں بلند ہو رہی تھیں۔میں وہاں سے اٹھا تو عدالت خان کی قبر پر دعا کی سبحان اللہ اللہ تبارک تعالیٰ اپنی راہ میں مرنے والوں کو کیسے کیسے نور عطا فرماتا ہے۔خدا درجات بلند فرمائے آمین۔134