زندہ درخت — Page 135
زنده درخت xix- مسلمان بھینسا 1922ء یا1923ء کا واقعہ ہے فتنہ ارتداد کا زمانہ تھا ہمارا آٹھ آدمیوں کا ایک گروپ بیادر گیا۔وہاں ایک گاؤں سورج پور میں ہر سال ایک میلہ لگتا تھا جس میں ایک بھینسے کو خوب نہلا دھلا کر تیل وغیرہ لگا کر چھوڑا کرتے تھے کہ یہ مسلمان ہے اس کا شکار کا ر ثواب ہے۔لوگ اُس پر ٹوٹ پڑتے حتی کہ وہ جانور زخموں کی تاب نہ لا کر مر جاتا۔غرض بڑا تعصب تھا ہم سارا ہفتہ دعوت الی اللہ کرتے اور جمعہ کو ہیڈ کوارٹر بیا در پہنچ کر رپورٹ دیتے اور نماز جمعہ پڑھ لیتے۔ایک دفعہ عجیب واقعہ ہوا ایک نو وارد آدمی نے ایک دوکاندار کور قعہ دیا کہ فلاں گاؤں میں آپ کی باتیں سنے کو آپ کو بلایا ہے۔رقعہ پر کوئی نام درج نہیں تھا۔ہم نے دکاندار سے پوچھا رقعہ کس نے دیا ہے؟ تو جواب ملا اجنبی آدمی تھا پر چہ دے کر کہا تھا کہ آپ کو دے دوں۔ہم نے اصرار سے پوچھا کہ یا تو خط دینے والے کا نام پتہ بتاؤ یا تھانے چلو اگر کوئی سازش ہو اور ہماری جان کو خطرہ ہو تو کون ذمہ دار ہو گا لوگ اکھٹے ہو گئے۔اپنی اپنی بولیاں بولنے لگے۔اُن دنوں مخالفت شدھی تحریک کی وجہ سے زوروں پر تھی۔یہ رقعہ ایک مسلمان دکاندار کو دینے کا مقصد یہ تھا کہ ایک تیر سے دو شکار ہوں آپس میں فساد ہو۔الزام بھی مسلمانوں پر آئے جسے طشت از بام کرنے سے سارے بازار میں ہماری عقلمندی کی شہرت ہو گئی۔ہم تو بے نام رقعہ دیکھ کر پھاڑ کر پھینک دیتے ہمارے ساتھی خواجہ عبد الرحمن ولد حضرت شادی خان صاحب کی فراست کام آئی اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں سازش سے محفوظ رکھا۔XX- ایک دعا: میں ویرووال میں تھا وہاں مکرم مولوی روشن الدین صاحب مبلغ مسقط کی کتاب بخاری شریف اردو میں زیر مطالعہ تھی۔اس میں ایک جگہ پڑھا کہ حضرت عمر فاروق نے دعا کی تھی کہ خدایا میں مدینہ میں بھی رہوں اور شہادت بھی نصیب ہو۔میں نے اُس وقت 135