زندہ درخت — Page 68
زنده درخت -12 محترمہ صوباں بی بی صاحبہ بی اہلیہ ثانی حضرت میاں فضل محمد صاحب۔ہر سیاں والے اکتوبر 1917ء میں محترمہ برکت بی بی صاحبہ کی وفات کے بعد خاندان پر ایسا وقت آیا کہ کوئی بھی خاتون گھر میں کھانے پکانے اور بچوں کی نگہداشت کے لئے نہ رہی۔کریم بی بی صاحبہ اور احمد بی بی صاحبہ کی وفات ہوگئی ، رحیم بی بی صاحبہ کی شادی ہو گئی۔صالحہ بی بی صاحبہ اور حلیمہ بی بی صاحبہ بہت چھوٹی تھیں۔اس خلا کو دیکھتے ہوئے حضرت خلیفۃ امسیح الثانی نے میاں صاحب کو دوسری شادی کا مشورہ دیا اور خود ہی قادیان کے ایک تاجر احمد دین صاحب کی بیوہ صوباں بی بی صاحبہ سے رشتہ تجویز فرمایا۔ان کے تین بچے تھے۔دو بیٹیاں سردار بیگم صاحبہ اور فاطمہ بیگم صاحبہ اور ایک بیٹا محمدعبداللہ صاحب۔آپ شوہر کی وفات کے بعد بچوں کے ساتھ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے گھر میں رہنے لگی تھیں۔میاں فضل محمد صاحب سے شادی کے بعد آپ کے دو بچے ہوئے صادقہ شریف صاحبہ اور عبدالحمید صاحب آف نیو یارک۔خاکسار کی درخواست پر پھوپھی صادقہ صاحبہ نے محترمہ صوباں بیگم صاحبہ کے حالات بیان کئے : میری والدہ محترمہ صوباں بی بی صاحبہ بہت نیک فطرت، خدا ترس ،غریبوں کی ہمدرداور ہر ایک سے حسن سلوک کرنے والی تھیں، اُن کی خواہش ہوتی کہ ہر کسی کے کام آئیں۔خاموشی سے خدمت کرتیں اگر کوئی کچھ کہ بی دیتا و برداشت کر لیتیں۔ان میں صبر بہت تھا۔خاندان مسیح موعود علیہ السلام خاص طور پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے بہت محبت کرتیں۔اکثر روزانہ یا کبھی ایک دو ناغہ ڈال کر حضور کے گھر جاتیں حضور بھی بہت شفقت 68