زندہ درخت — Page 34
زنده درخت ہے۔حضور وہاں ایک چارپائی پر بیٹھ گئے اور میں بھی حضور کے پاس بیٹھ گیا۔میں نے وہاں بیٹھ کر حضور سے باتیں کرنی شروع کر دیں۔میری وہ گفتگو بعض دنیاوی امور کے متعلق تھی جن سے حضور کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔مگر حضور پوری توجہ سے سنتے رہے۔میں نے کچھ خوا ہیں بھی سنائیں اس گفتگو میں کافی عرصہ لگ گیا۔میرا دل یہی چاہتا تھا کہ میں حضور کے پاس بیٹھا ہوں۔مگر حضور نے اس عرصہ میں کوئی بات نا پسندیدگی کی نہ فرمائی اور نہ ہی یہ فرمایا کہ میاں چھوڑو بہت دیر ہوگئی۔مجھے خود ہی خیال آیا کہ حضور کا وقت بہت قیمتی ہے۔میں اسے کیوں ضائع کر رہا ہوں۔اس خیال کے آتے ہی میں نے حضور سے اجازت لے لی۔آج مجھے جب اس کا تصور آتا ہے گھبرا اُٹھتا ہوں اور ساتھ ہی حضور کے اخلاق عالیہ کی بلندی پر غور کرتا ہوں تو حیران ہوتا ہوں۔حضور کی مہمان نوازی حضور کا اپنے مہمانوں سے بالکل ایسا تعلق تھا جو ایک شفیق باپ کا اپنی اولاد سے ہوتا ہے بلکہ اگر پورے طور پر دیکھا جائے تو ایک شفیق باپ سے شفیق باپ بھی اپنی اولاد سے نہیں کر سکتا۔حضور ابتدا میں کبھی اپنے مہمانوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے اور اس میں بھی حضور “ کا طریق یہ ہوتا کہ مہمان کی دلداری اور خاطر ملحوظ رکھتے۔اور کبھی کبھی حضور پاس رہتے اور مہمان اکیلے کھانا کھالیتے۔ایک دفعہ ( بیت ) مبارک میں کچھ دوست کھانا کھانے بیٹھے۔حضور اندر سے تشریف لائے۔اور حضور بھی مہمانوں کے ساتھ بیٹھ گئے میں نے حضور کو کھانا کھاتے دیکھا حضور چھوٹا سا ٹکڑا لیتے تھے اور اس سے ذرا سا سالن لگاتے تھے اور اسے کھاتے تھے۔اپنے سامنے سے بوٹیاں اُٹھا اُٹھا کر دوسروں کے برتنوں میں رکھتے جاتے تھے مجھے اس 34