زندہ درخت — Page 308
زنده درخت ساعتیں۔دنوں میں دن ہفتوں اور مہینوں میں گزرتے چلے گئے۔۔۔۔امتحان کے صبر آزما لمحات آئے اور گزر گئے۔نتیجہ کا اعلان ہوا۔۔۔بفضلہ تعالیٰ تمام کلاس پاس تھی اور امتہ الرشید سلمہا اللہ نے کلاس میں سیکنڈ پوزیشن حاصل کی۔۔۔کلاس حیران تھی۔یہ تھا خو بصورت اور شیریں پھل اسی کامل ایمان اور تقویٰ کا جو اس مخلوق نے اپنے خالق پر کیا۔وہ اس خالق کے فضلوں اور وسیع حمتوں سے بدگمان نہ تھیں۔انہیں اعتراف تھا کہ وہ ضرور کمزور ہیں مگر اس سے کسی عنوان انکار نہ تھا کہ وہ ایسے خالق کی مخلوق ہیں جو بڑا غالب۔۔۔بڑا قوی اور بڑا مہربان ہے سو جب اس خالق نے اپنے بندے کا ایمان اس قدر بڑھا ہوا اور بے مثال دیکھا تو پھر توفیق خداوندی نے بڑھ کر ہاتھ تھام لیا اور نہ صرف ان کو کامیابی کا منہ دکھایا بلکہ کلاس میں سیکنڈ پوزیشن بھی دے دی۔آؤ! ہم اس چھوٹی سی لڑکی سے ایمان و توکل کا درس حاصل کریں۔۔۔۔آؤ ہم اس رنگ میں رنگین ہو جائیں تا ہمارا ہاتھ بھی توفیق خداوندی بڑھ کر تھام لے۔۔۔تاہم بھی اس کے بے حساب انعامات سے نوازے جائیں۔۔۔اور اس طرح پر اپنی منزل مقصود کو حاصل کریں اور اس محبوب پر بد گمانی نہ کریں۔۔۔۔۔یه عزیزه۔۔۔محترمی عبدالرحیم صاحب درویش قادیان کی صاحبزادی تھیں۔جن کے اس پر یقین رویے نے مجھے اس قدر متاثر کیا کہ اپنے جذبات حوالہ قلم کرنے پر مجبور ہوئی۔اللہ کرے ہم میں وہی ایمان وہی تو گل پیدا ہو جائے جس کا مظاہرہ انہوں نے کیا۔آج وہی لڑکی یعنی امتہ الرشید بی۔اے بی۔ٹی ہیں۔اور نصرت گرلز سکول میں ٹیچر لگی ہوئی ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں دین ودنیا کی ترقی کے انتہائی مقامات پر پہنچائے۔اور ان کا گفتار و کردار آنے والی نسلوں کے لئے مشعل ہدایت بنے۔آمین۔۔۔(مصباح ربوہ جولائی 1987) جامعہ نصرت کے ماحول میں اتنی اپنائیت تھی کہ بزرگ حضرات طالبات کو اپنے بچوں کی طرح سمجھتے ایک دفعہ کسی فنکشن کے سلسلے میں طالبات کو لائلپور (فیصل آباد ) جانا تھا۔باجی 308