زندہ درخت

by Other Authors

Page 27 of 368

زندہ درخت — Page 27

زنده درخت ایک دفعہ مولوی محمد حسین بٹالوی کے ساتھ مقدمہ تھا اور اس کی ایک پیشی کے لئے موضع دھار یوال میں جانا پڑا گرمی کا موسم تھا اور رمضان کا مہینہ تھا بہت سے دوست اردگرد سے وہاں دھار یوال میں گئے۔بہتوں نے روزے رکھے ہوئے تھے۔وہاں ایک سردار نی نے ، جو موضع کھنڈے کے سرداروں میں سے ہے ، دعوت کا پیغام بھیجا۔حضور نے دعوت منظور فرمائی۔سردارنی نے میٹھے چاول وغیرہ کی دعوت کی۔بعض دوستوں نے حضور سے روزہ کے متعلق عرض کی۔حضور نے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا جائز نہیں ہے۔چنانچہ اس وقت دوستوں نے روزے توڑ دیئے۔ایک دفعہ میں نے اور میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے باہم مل کر ارادہ کیا کہ قادیان شریف میں دکان کھولیں چنانچہ اس کے متعلق یہ صلاح ہوئی کہ پہلے حضور سے اجازت لی جائے۔چنانچہ جب حضور نماز سے فارغ ہو کر گھر کو تشریف لے چلے تو ہم نے عرض کی کہ حضور ایک بات کرنی ہے اور وہ بات یہ ہے کہ ہم دونوں نے ارادہ کیا ہے کہ قادیان میں مل کر دکان کھولیں۔حضور وہاں بیٹھ گئے اور فرمایا کہ پہلے استخارہ کرلو۔میں نے عرض کی کہ حضور استخارہ تو ایک ہفتہ تک کرنا پڑے گا۔تب حضور نے فرمایا کہ استخارہ دعا ہی ہوتی ہے۔ہر نماز میں دعا کرو۔ایک دن میں بھی استخارہ ہو سکتا ہے۔اُس وقت مولوی نورالدین صاحب بھی گھر کو تشریف لے جارہے تھے۔حضور نے مولوی صاحب کو بھی بلالیا اور فرمایا یہ دونوں مل کر قادیان میں دکان کرنا چاہتے ہیں۔بھائی خیر الدین صاحب فرماتے ہیں کہ حضور نے اس وقت یہ بھی فرمایا تھا کہ اگر دکان میں گھانا پڑا تو چھوڑ دیں۔اس کے بعد ہمارا خیال دکان کرنے کا بالکل جاتا رہا۔ایک دن کا ذکر ہے کہ حضورا اپنی عادت کے طور پر سیر کے واسطے گھر سے باہر تشریف لائے۔بہت سے دوست باہر دروازہ پر حضور کا انتظار کر رہے تھے۔اُس روز حضور موضع بھینی کی طرف تشریف لے گئے۔راستہ میں جو بڑ کا درخت تھا حضور اس کے نیچے کھڑے ہو گئے اور وہاں ( ڈھاب تھی اس کی طرف اشارہ کر کے ) فرمایا کہ اس جو ہر کا پانی 27