زندہ درخت — Page 25
زنده درخت واسطے ( بیت ) گئے اور میں نماز پڑھانے کے واسطے کھڑا ہوا تو اُس لڑکے نے کہا کہ میں اب عید کی نماز پڑھاؤں گا۔میں نے اسے کہا کہ ہماری نماز تمہارے پیچھے نہیں ہوتی۔اور تو ہمیشہ میرے پیچھے پڑھتا رہا ہے اب تو کس لئے پڑھائے گا۔معلوم ہوتا تھا کہ اس کے ساتھیوں نے اسے کہا تھا کہ یہ تمہاری قضاء لے لے گا جس کی بنا پر اس نے زور دیا کہ نماز میں خود پڑھاؤں گا۔اس پر ہماری جماعت کے ایک لڑکے نے جس کا نام شیر محمد تھا زور سے مکا مارا۔جس پر میں نے اسے منع کیا اور سب کو ساتھ لے کر اپنی حویلی میں نماز ادا کی اور حسب عادت جمعہ پڑھنے کے لئے قادیان شریف آیا اور دیکھا کہ عبدالرحیم حجام (بیت ) مبارک میں کھڑا ہے۔میں نے پوچھا کیوں کھڑے ہو؟ تو اس نے جواب دیا کہ حضور کو مہندی لگانی ہے۔اور اندر اجازت کے لئے کہلا بھیجا ہے۔میں موقعہ دیکھ کر وہاں کھڑا ہو گیا۔جب اجازت ہوئی تو اندر چلا گیا۔حضور سے ملاقات کی اور پاس بیٹھ گیا اور میں نے وہ سارا قصہ عید والا سنایا۔حضور نے فرمایا کہ صبر کرو یہ سب مسجدیں تمہاری ہی ہیں۔اس کے بعد اور بہت سی باتیں ہوئیں جو یاد نہیں رہیں۔چنانچہ اب وہ ( بیت ) احمدیوں کے پاس ہے۔(جہاں سے ہمیں الگ کیا گیا تھا) ایک دفعہ حضور سیر کے واسطے باہر گئے اور میں بھی ساتھ تھا۔جب واپس تشریف لائے اور اندر گھر میں داخل ہونے لگے تو میں نے جھٹ آگے ہو کر عرض کی کہ حضور میں نے سنا ہے کہ پہلے زمانہ میں بزرگ اگر کسی کو کچھ تکلیف ہوتی تھی تو اس پر وہ اپنے منہ کی لعاب لگا دیا کرتے تھے تو اس کو شفا ہو جاتی تھی۔میری آنکھوں پر ہمیشہ پھنسیاں نکلتی رہتی ہیں۔اس پر حضور مسکرا پڑے اور کچھ پڑھ کر آنکھوں پر دم کیا۔اس روز سے آج تک تقریباً پینتیس برس گزر گئے ہیں میری آنکھ پر کبھی پھنی نہیں ہوئی بلکہ میری آنکھیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کبھی دکھنے ہی نہیں آئیں۔الحمد للہ یہ ایک معجزہ ہے۔ایک دفعہ حضور حسب عادت باہر سیر کے لئے تشریف لائے اور باغ کی طرف تشریف لے گئے جب باغ میں پہنچے تو وہاں شہتوت کے درختوں کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے اور 25