زندہ درخت

by Other Authors

Page 221 of 368

زندہ درخت — Page 221

زنده درخت تھیں گو میں اُس کی گرد کو بھی نہ پاسکوں گا مگر جذ بہ ضرور رکھتا ہوں۔6-6-1976 عزیزه باری پیاری ! میں نے سلسلہ احمدیہ میں پڑھا تھا کہ حضرت مسیح موعود ساری عمر جب بھی اپنی والدہ صاحبہ کا ذکر فرماتے یا سنتے تو جذبات کو یوں دباتے کہ صاف دکھائی دیتا کہ اندر ایک تلاطم ہے اور آب دیدہ ہو جاتے ماں، ماں، ماں اور پھر آمنہ ماں آپ کے دل کا حال سمجھتا ہوں۔ایک دفعہ عزیزہ شکور کے رخصتانہ کے موقع پر میں نے کہا مشہور ہے کہ : ماواں دھیاں ملن لگیاں چارے کنداں چہارے دیاں ہلیاں بیٹی کی رخصتی پر جب ماں نے بیٹی کو رخصت کرنے کے لئے گلے سے لگایا تو گھر کی چاروں دیوار میں ملنے لگیں۔) تم نے پانچ بیٹیاں رخصت کی ہیں تمہارا کیا حال ہوا ہوگا۔واقعی دل گردہ تھا، برداشت تھی ، حوصلہ تھا، فضل تھا خدا کی دین تھی ، فراخ دلی تھی، نیکی تھی ، تقویٰ تھا، بھروسہ تھا ، دور اندیشی تھی ، معاملہ نہیں تھی ، محبت و شفقت تھی ، صلہ رحمی کا بے مثال نمونہ تھی۔اپنوں سے دوسروں سے گھر پڑوس محلہ شہر مضافات اور دوسرے ملکوں تک اس کے حُسنِ سلوک کی کئی کئی مثالیں دے سکتا ہوں اس کا وجود با برکت تھا۔اُسے میری حلیمہ ماں برکت بی بی بیاہ کر لائی تھیں جو صبر تحمل صورت وسیرت میں ممیز تھیں پھر میرے والد صاحب خدا کے فضل سے فضل محمد جن کی اُس نے بہت خدمت کی تھی۔7-6-1976 باری پیاری کا خط بہت ہی خوب مضامین پر ملا۔خوشی ہوئی اس میں عزیزہ 221