زندہ درخت

by Other Authors

Page 222 of 368

زندہ درخت — Page 222

زنده درخت نے خواہش ظاہر کی ہے کہ ہماری امی اور ہمارا حق ہے کہ اُن کے اوصاف بیان کئے جائیں جب کہ آپ نے کڑا بند باندھ رکھا ہے۔نہیں لعل ! شوق سے سنو میرا ہر خط اُس کے اوصاف حمیدہ سے بھرا پڑا ہے۔دیکھ تو لو زندگی میں جب میں صادقہ، صابرہ شاکرہ، قانتہ اور نہ معلوم کیا کیا لکھا کرتا تو بعض لوگ برا مناتے مرحومہ بھی کہتی ایسے نہ لکھا کریں۔مگر میں تو لکھ ہی دیا کرتا تھا۔اگر آپ نے وہ خط سنبھال کر رکھے ہیں تو سارا مضمون کھل جائے گا۔کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے جیسے جملے ودیعت ہوتے ہیں جب میں بورڈ پر اعلان لکھا کرتا تھا باسط مجید گرد ہو جاتے کہ آج ابا کیا لکھنے لگے ہیں جماعت کے اکابرین نے کئی مرتبہ میرے سامنے کہا بھائی جی ان اعلانوں کونوٹ کرلیا کریں آپ کی اولاد کے لئے یادگار ہوں گے۔حضرت خلیفۃ اسیج حضرت چوہدری سر محمد ظفر اللہ خان تک بھی تعریف فرماتے اور میرے اعلانات کو شہر کا عجوبہ قرار دیتے۔آپ کی امی کی ذات میں بہت برکت تھی بعض دفعہ اُس کی سرسری باتیں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کی جاذب ہو جاتیں اُس کے مشوروں پر عمل میں برکت ہی برکت تھی۔طبیعت میں خاکساری تھی۔کبھی کمزوری میں بھاری چیز صحن سے کمرے میں یا کمرے سے صحن میں لانی ہوتی تو مجھے ہی کہتی مگر تھکی ہوئی آواز میں منت شامل ہوتی۔چاول نفیس پرانے منگواتی اب تک چاول کے ذکر کے ساتھ آپ کی امی کی چاولوں کی پر کچھ یاد آ جاتی ہے۔24-9-1976 عزیزه لطیف آج اٹھائیسواں روزہ ہے میں بیت مبارک میں اعتکاف بیٹھا ہوں اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔امید ہے آج عید کا چاند نکل آئے گا۔خط لکھنا آسان نہیں ہے۔کوئی نہ کوئی یاد تازہ ہو جاتی ہے جس سے سارا مضمون معطل ہو کے رہ جاتا 222