زندہ درخت — Page 16
زنده درخت موعود رئیس قادیان ضلع گورداسپور کے دعاوی پر صدق دل سے ایمان رکھتا ہوں اور اُن کا مرید اور پیرو ہوں۔۔۔۔۔۔میں نے رسالہ الوصیت جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے بتاریخ 24 ماہ دسمبر 1904ء کو شائع ہوا ہے تمام و کمال پڑھ لیا ہے میں ان ہدایات کو جو اُس میں درج ہیں پابند ہوں۔۔۔۔۔۔۔میں اس وقت دکان پنساری اور بزازی وغیرہ کی کرتا ہوں اور جو مال اس وقت اُس میں یعنی دکان میں موجود ہے اُس کی قیمت قریباً مبلغ تین سو روپے ہے اور اس مال میں میرا کوئی شریک نہیں ہے میں آج کی تاریخ سے اُس مال کی نسبت جس کی قیمت مبلغ تین سور و پیہ ہے میں اُس کے دسویں حصہ کے متعلق یہ وصیت کرتا ہوں کہ میرے مرنے کے بعد صدر انجمن احمدیہ قادیان یا اُس انجمن کے کسی مقرر کردہ ماتحت مجلس قادیان کے سپر د کر دیا جائے۔۔۔۔۔میں یہ بھی وصیت کرتا ہوں کہ میرے مرنے کے بعد میرا جنازہ احمدی جماعت قادیان شریف میں پہنچانے اور مقبرہ بہشتی میں دفن کرنے کی کوشش کی 66 جاوے۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے یہ وصیت صرف ابتغاء لوجہ اللہ کی ہے۔دستخط فضل محمد احمدی سکنہ موضع ہر سیاں وصیت کننده بقلم خود گواہ شد نور محمد ولد کریم بخش قوم آرائیں ساکن موضع ہر سیاں گواه شد - جمال الدین ولد محمد صدیق ساکن سیکھواں احمدی گواہ شد - امام الدین احمدی ولد محمد صدیق قوم آرائیں ساکن سیکھواں۔-102 آپ کا وصیت نمبر 102 ہے۔۔۔8 تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں آپ کا نمبر 526 ہے اس طرح آپ حضرت مصلح موعود کی ان دعاؤں کے وارث بنے جن میں آپ فرماتے ہیں: ”مبارک ہیں وہ جو اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں کیونکہ ان کا نام ادب و احترام سے اسلام کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔اور خدا تعالیٰ کے 16