زندہ درخت

by Other Authors

Page 155 of 368

زندہ درخت — Page 155

زنده درخت کے جوتے بوریوں میں بھرنے لگے۔مجید کو میں نے اندر سے دروازہ بند کرنے کو کہا اور خود چھت کے اوپر مٹی پر جا کر جائزہ لیا کہ کیا ہوسکتا ہے۔میں نے دیکھا کہ ایک کیپٹن اور تھانیدار قریباً چالیس ملٹری کے آدمیوں کے ساتھ کالج کی طرف جارہے ہیں میں نے اُن کو آواز دی کہ یہ کیسی ہماری حفاظت ہے کہ باہر آپ نے کرفیو لگایا ہوا ہے اندر اپنے آدمی نقب زنی اور لوٹ مار پر لگا رکھے ہیں۔کیپٹن انگریز تھا اُس نے پوچھا کہ یہ آدمی کیا کہتا ہے جب اُسے بتایا گیا تو اس نے مجھے نیچے بلایا اور ساری بات پوچھی وہ ایمان دار تھا اُس نے زبر دستی باٹا شوز اسٹور کا دروازہ کھلوایا۔اپنے سارے آدمیوں کو قطار میں کھڑا کر کے پوچھا کہ ان میں سے پہچانیں آپ کی چوری کس نے کی تھی۔دو آدمی پہچانے گئے۔اُس نے تھانیدار کو کہا کہ ان سے رائفلیں لے لیں اور پیٹیاں اُتار لیں اور مجھے کہا کہ آپ کے کسی ذمہ دار آدمی کے سامنے ہم ان کو سزا سنا دیں گے۔چنانچہ سرمحمد ظفر اللہ خان صاحب کی کوٹھی پر محترم مرزا عبد الحق صاحب کو بلوا کر ان چوروں کے خلاف فرد جرم لگائی اور پندرہ پندرہ دن کی سزا سنائی۔اس بات سے اُس علاقے کے ملٹری والے میرے خون کے پیاسے ہو گئے جو گزرتا چوبارے کی طرف ضرور فائر کرتا۔اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص حفاظت سے مجھے ان کے حملوں سے محفوظ رکھا۔الحمد للہ ثم الحمدللہ یہ واقعہ بہت مشہور ہوا بہت احباب میری خیریت پوچھتے اور دعا کرتے حتی کے حضرت اماں جان بھی میرے لئے دعا کرتیں اور گھر والوں سے خیریت پوچھتیں۔رات کو ملٹری نے چھاپہ مارا کل بارہ سپاہی تھے۔دو سپاہی دروازہ توڑ کر اوپر آئے اور میری چھاتی پر سنگین رکھ کر پوچھا تم شور کیوں کر رہے تھے۔میں نے کہا کہ میں نے صرف یہی پوچھا تھا کہ کون ہے؟ بات کرتے کرتے ایک سپاہی نے سنگر سلائی مشین اُٹھالی اور مجھے کہا کہ نیچے چلو میں نے پوچھا کیوں نیچے لے جارہے ہو کر فیول گا ہوا ہے۔نیچے گیا تو کر فیو کی خلاف ورزی کا الزام دھر کے آپ مجھے گولی ماردیں گے۔ایک سپاہی نے اپنا رینک دکھایا اور کہا میں ذمہ دار ہوں آپ کی حفاظت کریں گے۔155