زندہ درخت — Page 108
زنده درخت بجے کے قریب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایک خادم کے ہمراہ ہمارے گھر تشریف لائے اور ایک لحاف دے کر فرمایا کہ مجھے فرصت نہیں ملی ، اب خیال آیا کہ بچے سردی میں نہ سوئے ہوں۔سبحان اللہ کس قدر اپنی ذمہ داری کا احساس تھا کہ ایک غریب آدمی کی ذمہ داری خدا نے مجھ پر ڈالی ہے کو تا ہی نہ ہو۔اس چھوٹے سے واقعہ کے کئی پہلو ہیں۔ابھی ربوہ پوری طرح آباد نہ ہوا تھا۔راستے خراب تھے ، اندھیرا تھا۔ہاتھ میں لیمپ لے کر مخلوق خدا کی عملی ہمدردی کے لئے نکلے۔میرے بیوی بچوں کا اس قدرخیال رکھنے پر دل سے دُعا نکلتی ہے۔آپ کے طفیل جس قدر ہم نے آرام پایا اللہ تعالیٰ وہاں اُن کو آرام پہنچائے اور ہمیں بھی ان مبارک ہستیوں کے طفیل اپنی ذرہ نوازی سے معاف فرما کرستاری کی چادر میں چھپالے اور مقام قرب عطافرمائے، آمین۔میں اپنے خطوط آپ ہی کی معرفت بھیجا کرتا تھا۔ایک دفعہ آپ نے میری اہلیہ سے فرمایا: میں تو آپ کا ڈاکیہ ہوں“۔بچوں کی شادیوں میں آپ سے مشورہ کیا جاتا۔آپ دلچسپی لیتے۔شادیوں کے انتظامات کی نگرانی فرماتے اور سب سے بڑی بات شرکت فرماتے اور باپ کی طرح دُعاؤں سے رخصت فرماتے۔دیکھئے اس زمانے کا ایک خط کس قدر اپنائیت ہے :- مکرم میاں عبد الرحیم صاحب درویش سوڈا واٹر فیکٹری السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاته کل اچانک آپ کا خط موصول ہوا جس میں عزیز میاں ناصر احمد کے بچہ کی پیدائش پر مبارکباد لکھی تھی۔جزاکم اللہ خیراً۔میں نے عزیز میاں ناصر احمد والا خط انہیں بھجوا دیا ہے اور حضرت اماں جان والا اُن کی خدمت میں بھجوا دیا ہے۔عجیب اتفاق ہے کہ جس دن آپ کا یہ خط آیا اسی دن میں یہ خیال کر رہا تھا کہ ایک عرصہ سے آپ کا خط نہیں آیا۔والسلام 23-3-1950 مرزا بشیر احمد 108