زندہ درخت

by Other Authors

Page 109 of 368

زندہ درخت — Page 109

زنده درخت تبرک میں مقدار کا سوال نہیں ہوتا: ابتدائی درویشی کے زمانے میں مکرم جناب حفیظ خان صاحب ویرووال والے قادیان تشریف لائے تو میں نے اُن کے ہاتھ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے لئے لنگر خانہ کی روٹیاں اور دار الحمد کی لوکاٹ تحفت بھیجوائی۔ساتھ رقعہ لکھا کہ تبرک قبول فرما کر دُعاؤں سے نوازیں اور کچھ میرے گھر میں اپنے ہاتھ سے بھجوادیں، اُن کے لئے دُہرا تبرک ہو گا۔حضرت میاں صاحب کا بہت اچھا جواب ملا۔آپ نے لکھا چند روٹیاں اور تھوڑی لوکاٹ آپ کے گھر بھجوا دی ہیں، کچھ لوکاٹ راستہ میں خراب ہو ئیں کچھ بارڈر والوں نے تبرک سمجھ کر رکھ لیں۔جو کچھ حصے میں آیا بھجوا دیا۔تبرک میں مقدار کا سوال نہیں ہوتا۔سبحان اللہ کیا علم و معرفت کا نکتہ ہے۔آپ نے میرے اہلِ خانہ کو تبرک بھجواتے وقت جو مکتوب تحریر فرمایا وہ بھی ہمارے پاس محفوظ ہے۔عزیزه مکرمه امته اللطیف صاحبه السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ امید ہے آپ کی والدہ صاحبہ خیریت کے ساتھ ربوہ واپس پہنچ چکی ہوں گی۔کل شام کو عبدالحفیظ خاں صاحب جو دو دن کے پرمٹ پر قادیان گئے تھے واپس پہنچے ہیں ان کے ہاتھ آپ کے والد صاحب نے تین روٹیاں لنگر خانہ کی اور کچھ لوکاٹ اور ایک دیچی اور کچھ کپڑے بھجوائے ہیں۔روٹیاں میں نے احتیاطاً خشک کرالی ہیں تا کہ بس نہ جائیں اور زیادہ دیر تک رہ سکیں۔میں حامل ہذا کے ہاتھ آپ کو لوکاٹ اور روٹیاں بھجوا رہا ہوں۔باقی چیزیں عبد الحفیظ صاحب چند دن تک خود اپنے ساتھ لائیں گے شاید ایک دو کپڑے غلام قادر صاحب و عطاء اللہ صاحب ولد سراج الدین صاحب مؤذن کے بھی ہیں بہر حال یہ سب چیزیں عبدالحفیظ خاں صاحب کے پاس ہی ہیں وہی آپ کو پہنچائیں گے میں صرف تین عد دروٹیاں اور کچھ لوکاٹ بھجوا رہا ہوں۔لوکاٹ کچھ زیادہ تھے۔مگر بارڈر پر اکثر روک 109