زندہ درخت

by Other Authors

Page 95 of 368

زندہ درخت — Page 95

زنده درخت خوف سے شدید گھبراہٹ طاری ہو گئی۔اب بچوں کو اُستاد کی مار کا تجربہ کم ہو گیا ہو گا مگر ہمارے وقتوں میں ماسٹر صاحبان اس قدر مارتے تھے کہ لڑکوں کا ڈر کے مارے دم نکل جاتا تھا۔ہمیں خوفزدہ دیکھ کر ایک شخص نے پوچھا کہ تم کو کہاں جانا ہے کچھ اتہ پتہ معلوم ہے؟ مکان کہاں ہے؟ تب ہم نے بتایا ٹھیکیدار جلال الدین صاحب کے مکان پر جانا ہے۔وہ رحمدل شخص ہمیں لے کر پوچھتا پوچھا تارات گئے ہمیں گھر پہنچا کر گیا۔رات دیر سے آئے صبح ناشتہ دیر سے ہوا۔جب امتحان دینے گئے تو اس قدر دیر ہو چکی تھی کہ کمرہ امتحان میں داخل نہ ہو سکے۔اس طرح میں وظیفے کے امتحان میں بیٹھنے سے رہ گیا۔مگر اسکول کے ماسٹر صاحبان کو میری قابلیت کا اندازہ ہو گیا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ ایک سال مزید میں اُس اسکول میں رہوں تا کہ آئندہ سال امتحان دے کر وظیفہ حاصل کروں اس طرح اسکول کو نیک نامی ملتی تھی مگر والد صاحب اسکول میں مزید ایک سال لگانے پر آمادہ نہ تھے اسی میں بہتری ہوگی ہم نے اسکول کو خیر بادکہا۔ایک رات مصیبت کی رات سات آٹھ سال کی عمر میں ایک خوفناک رات گزارنی پڑی۔اُن دنوں میں اور میرے بڑے بھائی عبدالغفور صاحب جن کی عمر اُس وقت گیارہ بارہ سال ہوگی۔تلونڈی جھنگلاں میں پڑھا کرتے تھے۔ہمارے اُستاد محترم نور محمد صاحب اور محترم مولوی سکندر علی صاحب شام کو اسکول سے رخصت ہوئے تو ہم دونوں بھائی بھی تلونڈی سے ہرسیاں کی طرف روانہ ہوئے۔ابھی ہم گاؤں سے باہر نکلے تھے کہ مغرب سے کالا بادل اُٹھا ساتھ ہی تیز ہوا چلنے لگی۔بادل کچھ اس قدر خوفناک تھا کہ طوفان کے خیال سے سب کے دل دہل گئے۔تلونڈی جھنگلاں کے نمبر دار مکرم رحیم بخش صاحب اور ان کی بیگم صاحبہ کے ہمارے گھر سے قریبی دوستانہ مراسم تھے۔جب اُن کے بچے گھر پہنچے تو اُن کی والدہ صاحبہ کو خیال آیا کہ ہم تو ابھی راستے میں ہوں گے اپنے بچوں سے پوچھا محمد شریف فیض محمد آپ تو آ گئے۔عبدالغفور اور 95