زندہ درخت — Page 57
زنده درخت ہزاروں انعامات آپ پر ہوں ) کے مبارک عہد میں ایک رہائشی مکان بنوایا اور روایت ہے کہ آپ ہی کے نام نامی سے اس محلہ کا نام دار الفضل رکھا گیا۔اس ہرسیاں کے یہ بزرگ انقلاب زمانہ اور وقت کی قلابازیوں سے کبھی ہراساں وترساں نہ ہوئے اور نہایت درجہ خلوص اور صبر ورضا کے ساتھ زندگی بسر کی۔آپ کے کاروبار کو اگر دیکھا جائے تو یہ ماننے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ آپ کا وہ کاروبار آپ کے جملہ اخراجات حیات کو پورا کرنے کا باعث تھا لیکن آپ نے جس قناعت اور توکل کا نمونہ دکھایا اس کی مثال انسانی زندگی میں بہت کم ملتی ہے۔آپ کی دوکان کے طاقچہ پر ایک لوہے کی شیخ کے ساتھ ایک کاپی اور ایک پنسل بندھی ہوتی تھی جس پر ادھار لینے والوں کا حساب درج ہوا کرتا تھا۔لیکن مکرم میاں صاحب کا یہ حال تھا کہ آپ نے کبھی حساب لکھنے والے کی جانچ پڑتال نہ کی جو کچھ کوئی لکھ جاتا اس کو ہی صحیح سمجھ لیا جاتا اس سے آپ کی دلی فراخی کا ثبوت ملتا ہے اور کئی ناعاقبت اندیش طلبا آپ کی اس سادہ دلی سے ناجائز فائدہ اٹھاتے مگر میاں صاحب کے ماتھے پر ان تمام غفلتوں اور چھوٹی چھوٹی لغزشوں کے باوجود شکن تک نہ پڑتی۔ہاں آپ اصولوں پر قائم رہتے۔بورڈنگ ہاؤس میں مقیم طلبا اگر کبھی سر سے ننگے آپ کی دوکان سے سودا لینے جاتے تو ان کو آپ واپس لوٹا دیتے اور یہی فرماتے کہ سر پر ٹوپی رکھ کر آؤ تب یہاں سے سودا پاؤ۔عبادت عصر اور مغرب کے درمیانی وقفہ میں میرا بھی ہر روز کا معمول ہوتا کہ میاں صاحب موصوف سے ملاقات کروں اور کچھ خور و نوش کا بندوبست بھی کرلوں کئی دنوں کی حاضری کے بعد ایک دن میاں صاحب نے از راہ شفقت مجھ سے یہ دریافت فرمایا کہ خاکسار کہاں سے آیا تھا یہ سوال پنجابی زبان میں آپ نے پوچھا میں نے جواباً عرض کیا کہ خاکسار ضلع سرگودھا کا رہنے والا ہے اور حضرت امام جماعت اول ( اللہ تعالیٰ کی بے شمار برکتیں آپ پر ہوں) کے گاؤں بھیرہ سے 9 میل مشرق میں میرا گاؤں ہے۔اور پڑھنے کی غرض سے یہاں بورڈنگ ہاؤس میں رہ کر دسویں جماعت میں پڑھتا ہوں۔میرا یہ 57