زندہ درخت — Page 43
زنده درخت - حضرت والد صاحب مولائے حقیقی سے جاملے تحریر محترم عبدالرحیم صاحب درویش مجھے قادیان میں مکرم جناب ملک صلاح الدین صاحب نے پیغام دیا کہ وہ والد صاحب سے ربوہ میں ملے تھے آپ نے قادیان کا حال دریافت فرمایا اور دوسری بات یہ کہی کہ میرا ایک بچہ عبدالرحیم قادیان میں درویش ہے اُسے کہیں کہ آکر مل جائے۔اس پیغام میں کچھ عجیب درد تھا میں 3 نومبر 1956ء کو قادیان سے چل کر 4 نومبر ربوہ پہنچا آپ نے مجھے دیکھ کر بہت تسکین اور آرام محسوس کیا 7 نومبر کو دن کے ایک بجے اس دار فانی سے کوچ کر کے اپنے مولائے حقیقی سے جاملے۔اللہ تعالیٰ اعلی علیین میں جگہ عطا فرمائے آمین۔اُس وقت حضرت خلیفتہ المسیح الثانی جابہ میں مقیم تھے۔میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سے ملا اور اپنی یہ درخواست پیش کی کہ جنازہ حضور پڑھائیں میں نے میاں صاحب کو بصد ادب ایک حوالہ بھی دیا کہ راجپوت سائیکل والے ایک رفیق مسیح موعود فوت ہوئے تو اُن کے عزیز لا ہور سے جنازہ لے کر آئے حضور کو اطلاع دینے میں کچھ تاخیر ہوئی جب اطلاع دی گئی۔علم ہوا کہ حضور تو تھوڑی دیر پہلے ہی سفر پر روانہ ہو چکے ہیں۔حضور کو بروقت اطلاع نہ دے سکنے کا افسوس ہوا اُدھر جب واپسی پر حضور کوعلم ہوا تو آپ نے اظہار افسوس و ناراضگی فرمایا۔ایسا نہ ہو ہم اطلاع نہ دیں تو حضور ناراض ہوں کہ میاں فضل محمد صاحب کے انتقال کی خبر کیوں نہ دی۔آپ نے فرمایا کہ بہت سوچا ہے مگر کوئی صورت نظر نہیں آرہی تار ٹیلیفون کوئی بھی سہولت وہاں میسر نہیں۔کرنا خدا کا کیا ہوا کہ میری ہمشیرہ عزیزہ صالحہ بی بی اپنے بیٹے عزیز سمیع اللہ صاحب شفا میڈیکوز لاہور والے کے ساتھ کار میں تشریف لائیں تب میں حضرت میاں صاحب کے پاس گیا کہ حضور کار میسر آ گئی ہے 43