زندہ درخت

by Other Authors

Page 340 of 368

زندہ درخت — Page 340

زنده درخت نظر آئے۔میں نے روڑے شاہ سے کہا ان کے سامنے گفتگو میں کوئی حرج نہیں۔سکھوں نے بھی یہی کہا کہ ہم تو دینِ حق کی باتیں پیار سے سنتے ہیں۔میں نے مرزا صاحب کے بعض واقعات سنائے جس پر وہ بہت خوش ہوئے۔وہ کہنے لگے کہ ہم پر میشر کر تار کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ مرزا جانی جان بہت دانشمند ہے اور عالم غیبی سے خاصہ پیوند رکھتا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ اُسے غیب کی خبریں نہ بتا تا تو وہ آریوں کی دعوت مان لیتا وہاں آریہ ا نہیں نقصان پہنچاتے بلکہ جان سے مار دیتے۔انہوں نے قسمیں کھا کھا کر یہ بات بتائی کہ جس دن آریہ جلسے کے لئے قادیان گئے تھے۔آریہ یکوں میں بیٹھ کر آتے اور ایک جگہ اکھٹے ہو جاتے۔وہاں ایک کنواں تھا اُسی کے پاس اکٹھے ہو گئے اور مشورے کئے۔وہ سمجھے کہ یہاں کوئی غیر نہیں ہے۔پھر مشورہ کیا کہ مرزا کو کسی نہ کسی طرح جان سے مارنا ہے۔جلسہ میں شور شرابہ کیا جائے۔مرزا کو جھوٹا جھوٹا کہا جائے۔وہ جواب دینے جلسے میں آجائے تو پنڈت لیکھرام کا بدلہ لینا ہے۔اس کا کام تمام کرنا ہے۔کسی پر الزام نہ لگے گا ، بلوہ ثابت ہوگا۔وہ لوگ قسمیں کھا کھا کر مرزا کو مارنے کا پروگرام بنارہے تھے۔ہم اندر سے کانپ رہے تھے۔وہ تو قادیان جا کر شاید آرام کر رہے ہوں مگر ہمارا آرام حرام ہو گیا۔کان قادیان کی طرف لگے ہوئے تھے کیا خبر آتی ہے۔مخالفین نے اپنا پورا زور لگا لیا مگر مرزا نے اُن کی کوئی بات نہ سنی اس بات سے ہم سمجھتے ہیں کہ آپ کا جانی جان سچا امام ہے۔سکھ دوستوں سے یہ ساری بات سُن کر مجھے سمجھ آئی کہ حضرت اقدس جلسے میں کیوں نہیں آئے۔سُن سکھاں تو قلب نوں ہویا اطمینان کی کر سکدا جے اللہ مہربان 340