زندہ درخت — Page 336
زنده درخت باری نکال کر دھار کی شکل میں پانی ڈالتے گئے۔یکدم ایسالگا کہ میرے بدن سے آگ نکل رہی ہے۔میں بے سدھ ہو گیا ایسا لگا تھا کہ جوں جوں مجھ پر پانی پڑ تا آگ کے شعلے باہر نکلتے۔میں نیم بے ہوشی میں حال بے حال ، غروب آفتاب کا وقت ہو گیا۔اگر میں حضرت کی بات نہ مانتا اور سفر کے لئے روانہ ہو جا تا تو راستے میں مرجاتا میں اُس ذات پر قربان کیوں نہ ہو جاؤں جو مسافروں کو روک کر فیضیاب کرتے ہیں۔آپ نے ٹھنڈے شربت اور پر تکلف کھانے سے افطاری کروائی۔اور عشاء کے وقت پوچھا: صبح آپ روزہ رکھیں گے؟ میں نے کہا کہ میں تو روزہ نہیں چھوڑوں گا۔سحری کے وقت کھانے کا ایک تھال میرے لئے آیا جس میں سے میں نے رغبت سے کھایا۔فجر کی نماز پڑھ کے میں روانہ ہو گیا۔دو پہر ہوئی تو ایسا لگا کہ پیاس سے جان نکل جائے گی۔مسئلہ تو کل سن ہی لیا تھا اُس پر عمل کیا اور آج کے پانی پیا۔میں نے اپنی آنکھ سے حضرت کے معجزے دیکھے ہیں، اغیار کہتے رہیں۔کو لا انزل عليه آية۔حضرت امتدن پرٹور کی بارش میں نے حضرت اقدس کے جو حالات دیکھے وہ یوں تھے کہ نہ کوئی آپ کی بات سنتا تھا نہ پوچھتا تھا۔حضرت مرزا صاحب اپنے گھر میں اس طرح رہتے تھے کہ ہر دم اللہ تعالیٰ سے معاملہ رہتا جب اللہ تعالیٰ سے الہامات کا سلسلہ شروع ہوا آسمان سے رحمتوں کی بارش کا نزول ہوا میں اللہ عالی ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے عجیب تماشا دیکھا۔رات کے وقت برسات کی تیز بارش کی طرح اوپر سے ستارے برستے تھے جس سے سات جہاں روشن ہو جائیں ساری مخلوق اس نظارے کو دیکھ کر حیران ہوتی اگر چہ معلوم نہیں تھا کہ اس کی وجہ کیا ہے۔جس ہستی کی خاطر آسمان سے نور برستا تھا۔اُس نے کل جہاں کی ظلمت دُور کی۔336